اگر مستقبل میں کبھی سعودی عرب کے سفر کا ارادہ رکھتے ہیں تو یہ خبر ضرور پڑھ لیں، ورنہ ان ہزاروں روپے سے محروم ہوسکتے ہیں
read news trip saudi arabia

پروازوں کی روانگی میں تاخیر ایک عام پایا جانے والا مسئلہ ہے اور اکثر مسافر اپنی لاعلمی کی وجہ سے تاخیر کی تکلیف بھی برداشت کرتے ہیں اور ائیرلائن سے وہ ہرجانہ بھی وصول نہیں کر پاتے جو قانون کے مطابق ان کا حق ہے۔

سعودی حکام نے واضح کر دیا ہے کہ ہر ایک گھنٹہ تاخیر کے بدلے ائیرلائن ہر متاثرہ مسافرکو 300 ریال (تقریباً 8348 پاکستانی روپے) ادا کرنے کی پابند ہے، اور اگر ائیرلائن اس وقت کے دوران روانگی کا نیا شیڈول جاری کرنے میں ناکام رہے تو مسافر زیادہ سے زیادہ 10 گھنٹوں کی تاخیر کے عوض ہرجانہ وصول کرسکتے ہیں۔جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن کے کنزیومر پروٹیکشن ریگولیشن کا آرٹیکل 8 کہتا ہے کہ ائیرلائن ناصرف فی گھنٹہ تاخیر کے عوض 300 ریال کا ہرجانہ ادا کرنے کی پابندی ہے بلکہ مسافروں کو ہوٹل میں قیام کی سہولت فراہم کرنے کی بھی پابند ہے، اگر 6چھ گھنٹے سے زائد تاخیر متوقع ہو۔ دوران پرواز مسافر جہاز میں زور دار دھماکے کی آواز،مسافر نے کھڑکی سے باہر دیکھا تو ایسا منظر کہ پیروں تلے زمین ہی نکل گئی اور پھر۔۔۔جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن کے حکام کا کہنا ہے کہ اتھارٹی کی جانب سے مسافروں کو ہرجانے کی ادائیگی اسی صورت میں یقینی بنائی جا سکتی ہے جب وہ اپنے حقوق سے آگاہ ہوں اور خود اس عمل کا آغاز کریں۔ مسافروں کو ٹکٹ خریدتے ہوئے دیکھنا چاہیے کہ وہ کن شرائط و ضوابط کو قبول کررہے ہیں، کیونکہ اکثر مسافر اپنی لاعلمی کی وجہ سے ایسی شرائط قبول کرلیتے ہیں کہ جن کا فائدہ بالآخر ائیرلائن کو ہوتا ہے، یا مسافر اپنے جائز حق سے کم معاوضہ قبول کرنے پر تیار ہوجاتے ہیں۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں