جرمنی کا فیس بک کو صارفین کا ڈیٹا کم اکھٹا کرنے کا حکم
  • 0
  • 0

http://tuition.com.pk
data users facebook

جرمنی کی کامپیٹیشن اتھارٹی نے فیس بک سے کہا ہے کہ وہ صرف صارفین کی ’رضامندی‘ کے بعد ہی اپنی ایپ اور ویب سائٹ کے علاوہ دوسری جگہوں سے ان سے متعلق ڈیٹا جمع کر سکتا ہے۔
ادارے نے اس معاملے پر فیس بک کی بڑھتی سرگرمیوں کے بارے میں ممبران کو آگاہ نہ کرنے پر خدشات کے بعد یہ حکم جاری کیا ہے۔ اس میں تھرڈ پارٹی کے ساتھ ساتھ فیس بک اور اس کی دیگر ایپس کی جانب سے جمع کیے جانے والے ڈیٹا کو کوور کیا گیا ہے۔ تاہم امریکی فرم فیس بک کا کہنا ہے کہ وہ اس کے خلاف اپیل کرے گی۔ ادارے نے مزید کہا ہے کہ ’اتنی بڑی تعداد میں ڈیٹا پراسیز‘ کے لیے کمپنی کی شرائط سے اتفاق کرنے کے لیے ’لازم ٹک باکس‘ ہونا کافی نہیں ہے۔ یہ فیصلہ صرف جرمنی میں فیس بک کی سرگرمیوں پر لاگو ہوگا لیکن ممکن ہے کہ اس کا اثر دوسری جگہوں پر بھی پڑے۔ فیس بک نے دعویٰ کیا ہے کہ فیڈرل کارٹل آفس نے ڈیٹا پرائیویسی کے حوالے سے اپنی حدود سے تجاوز کیا ہے۔ فیس بک کے مطابق یہ معاملے کسی دوسرے ادارے کے تحت آتا ہے۔ اس قانون کے نافذ ہونے سے قبل فیس بک کے پاس اس کے خلاف اپیل کرنے لیے ایک ماہ کا وقت ہے۔ ایف سی او نے اس حوالے یہ توجیح پیش کی ہے کہ اس کے خیال میں فیس بک نے ڈیٹا جمع کرنے کے لیے اس کی مارکیٹ تسلط کو خراب کیا ہے۔ آنڈریس منڈ جو کہ ایف سی او کے صدر ہیں کا کہنا ہے کہ ’مستقبل میں فیس بک کو اس صارفین کو اس بات پر مجبور کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ غیر محدود کلیکشن اور فیس کے باہر کا ڈیٹا فیس بک صارفین کے اکاؤنٹس پر ڈالنے پر رضامندی ظاہر کریں۔‘ اس فیصلے کی وجہ سے بیرونی ویب سائٹس پر فیس بک کے لائک اور شیئر کے بٹن متاثر ہو سکتے ہیں جن کی وجہ سے فیس بک ہر وزیٹر کے آئی پی اڈریس، ویب براؤزر کا نام اور ورژن کو ٹریک کر سکتا ہے، اور ایسی دیگر تفصیلات جن کی مدد سے ان کی شناخت کی جا سکے۔ فیس بک نے حال ہی میں آگے بڑھ کر انسٹاگرام، واٹس ایپ اور فیس بک میسنجر کی چیٹ سروسز کے پیچھے ٹیکنالوجی کو یکجا کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ فیس بک اپنے اس طرح کے کاموں کا ان بنیادوں پر دفاع کرتا ہے

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں