نوازالدین صدیقی پر بیوی کے فون ریکارڈ کی جاسوسی کا الزام
nawazuddin siddiqui caught spying wife

ورسٹائل اداکار نوازالدین صدیقی ایک نئی مشکل میں پھنس گئے ہیں اور انہیں پولیس نے تحقیقات کے لیے پیش ہونے کے لیے سمن جاری کردیا ہے۔

نوازالدین صدیقی پر الزام ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر نجی جاسوسوں سے اپنی اہلیہ کا فون ریکارڈ حاصل کرنے کی کوشش کی، تاہم اس حوالے سے حتمی تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔ ہندوستان ٹائمز کے مطابق ریاست مہاراشٹر اور ممبئی کے نواحی شہر تھانے کی کرائم برانچ پولیس اسٹیشن نے نوازالدین صدیقی، ان کی اہلیہ اور ان کے وکیل رضوان صدیقی کو بدنام زمانہ کیس ‘کال ڈیٹیل ریکارڈ‘ (سی ڈی آر) کیس کی جاری تحقیقات میں پیش ہوکر اپنا ریکارڈ بیان کرانے کے لیے سمن جاری کردیا۔ ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) کا کہنا ہے کہ اداکار سمیت تینوں افراد کو سی ڈی آر کیس میں ابتدائی تحقیقات مکمل ہونے اور 11 افراد کی گرفتاری کے بعد سمن جاری کیا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ اداکار، اس کی اہلیہ اور ان کے وکیل کو گرفتار افراد کی نشاندہی کے بعد ہی سمن جاری کیا گیا۔  نوازالدین صدیقی کو جاری کیے گئے سمن میں انہیں پولیس تھانے پہنچ کر اپنا بیان ریکارڈ کرانے کو کہا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق نوازالدین صدیقی کو 9 مارچ کو تھانے پولیس کرائم برانچ آکر اپنا بیان ریکارڈ کرانے کو کہا گیا، تاہم اداکار بیان ریکارڈ کرانے نہیں پہنچے۔ خبر کے مطابق اسی کیس میں پولیس نے نجی جاسوسوں سمیت 11 افراد کو گرفتار کر رکھا ہے، جب کہ گرفتار کیے گئے افراد کی نشاندہی پر مزید افراد کو اپنے بیان ریکارڈ کرانے کے لیے سمن جاری کیے گئے ہیں۔ ادھر ڈی این این انڈیا نے اسی خبر کے حوالے سے بتایا کہ اسی کیس میں پولیس نے ہندوستان کی پہلی خاتون جاسوس رجنی پنڈت کو بھی گرفتار کر رکھا ہے۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق لوگوں کے فون ڈیٹا کی جاسوسی اور ریکارڈنگ کرنے والے گرفتار کیے گئے گرفتار سے متعلق انکشاف ہوا ہے کہ وہ لوگوں کا فون ڈیٹا ریکارڈ کرکے اسے فروخت کرتے تھے۔

رپورٹ کے مطابق گروہ ہائی پروفائیل اور اہم شخصیات کا فون ڈیٹا بھی ریکارڈ کرتے تھے اور اس ریکارڈنگ ڈیٹا کی ابتدائی قیمت 25 ہزار روپے سے شروع ہوتی تھی۔ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ نجی جاسوسوں کا گروہ لوگوں کا فون ڈیٹا ریکارڈ کرنے کے بعد ان کے ہی رشتہ داروں، گھروالوں یا ان افراد میں دلچسپی رکھنے والے افراد کو فروخت کرتا تھا۔ نجی جاسوسوں کا گروہ اس مقصد کے لیے پولیس کے ذرائع بھی استعمال کرتا تھا، کیوں کہ ان سے چند اہلکار بھی ملے ہوئے تھے۔ اس کیس کی سب سے پہلی گرفتاریاں رواں برس جنوری میں ہوئی تھیں، جس کے بعد مزید افراد کو گرفتار کرکے معاملے کی تفتیش کا دائرہ وسیع کردیا گیا تھا۔ اب تک اس کیس میں نجی جاسوسوں سمیت 11 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، گرفتار افراد کی نشاندہی کے بعد ہی نوازالدین صدیقی، ان کی اہلیہ اور وکیل کو سمن جاری کیے گئے۔

تفتیش سے منسلک ذرائع کا کہنا ہے کہ نوازالدین صدیقی، ان کی اہلیہ اور ان کے وکیل کو اس لیے سمن جاری کیے گئے، کیوں کہ گرفتار افراد نے بتایا کہ اداکار نے بھی اپنی بیوی کا فون ڈیٹا حاصل کرنے کی کوشش کی۔ ابھی اس حوالے سے تصدیق ہونا باقی ہے کہ نوازالدین صدیقی نے اپنی اہلیہ کے فون ڈیٹا کی ریکارڈنگ مانگی تھی یا نہیں۔ دوسری جانب نوازالدین صدیقی اور ان کے وکیل نے اس معاملے پر تاحال کوئی وضاحتی بیان جاری نہیں کیا۔ خیال رہے کہ ان کی اہلیہ انجلی صدیقی سے ان کے 2 بچے بھی ہیں، ان کی شادی اداکار کے فلمی کیریئر کے آغاز میں ہوئی۔ نوازالدین صدیقی نے فلمی کیریئر کے آغاز 1999 سے عامر خان کی فلم ’سروفروش‘ میں ایک دہشت گرد کے کردار ادا کرنے سے کیا، اب تک 52 سے زائد فلموں میں جلوہ گر ہوچکے ہیں، جن میں سے زیادہ تر میں انہوں نے معاون اداکار کا کردار ادا کیا۔ نوازالصدین صدیقی متعدد ویب سیریز بھی نظر آ چکے ہیں، جب کہ گزشتہ برس انہوں نے اپنی سوانح حیات بھی شائع کی تھی، جس کے سامنے آنے کے بعد ان پر کئی اداکاراؤں سے متعلق حقائق توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا الزام لگا۔ نوازالدین صدیقی کی مشہور فلموں میں ’پیپلی لائیو، کہانی، پان سنگھ تومر، گینگ آف واسع پور، تلاش، لنچ باکس، کک، بدلاپور، بجرنگی بھائی جان، فریقی علی، حرامخور، موم، منا مائیکل اور بابوموشی بندوق باز شامل ہیں۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں