فلم پدماوتی پر ایک بار پھر سیاہ بادل منڈلانے لگے
  • 0
  • 0

http://tuition.com.pk
film director india

نئے نام اور ریلیز کی نئی تاریخ کے اعلان کے باوجود فلم پدماوتی پر ایک بارپھر سیاہ بادل منڈلانے لگے۔ہدایت کار سنجے لیلا بھنسالی کی فلم پدماوتی ابتدا ہی سے مختلف تنازعات کا شکار رہی ہے

 ہندو انتہا پسندوں نے ابتدا میں فلم کو روکنے کے لیے سنجے لیلا بھنسالی پر تشدد کرنے کے علاوہ سیٹ اور اداکاروں کے کاسٹیوم تک جلادئیے تھے تاہمسنجے لیلا بھنسالی ٹس سے مس نہ ہوئے اور فلم کو مکمل کرنے کے اپنے ارادے پر قائم رہے۔بعد ازاں فلم مکمل ہونے کے بعد ہندو انتہا پسندوں نے اس کی بھارت سمیت پوری دنیا میں نمائش پر پابندی کا اعلان کردیا یہاں تک کہا گیا کہ اگر فلم ریلیز ہوئی تو سنجے لیلا بھنسالی کا سر اور دپیکا پڈوکون کی ناک کاٹ دی جائے گی۔اپنی فلم کے لیے لڑ رہے سنجے لیلا بھنسالی کو راحت اس وقت ملی جب بھارتی سنسر بورڈ نے نام تبدیل کرنے کی شرط پرفلم کو ریلیز کی اجازت دے دی۔ فلم کا نام پدماوتی سے تبدیل کرکے پدماوت کردیا گیا اور اسے 25 جنوری کو ریلیز کرنے کا اعلان کیا گیا تاہم نئے نام اور نئی تاریخ کے باوجود پدماوتی ایک بار پھر مشکلات سے دوچار ہوگئی بھارتی ریاست راجستھان کی حکومت نے فلم پر ایک بار پھر اعتراض کرتے ہوئے فلم کی نمائش روک دی ہے۔ راجستھانی حکام کا کہنا ہے کہ فلم مختلف قانونی تنازعات کا شکار ہے اور وہ لوگ فلم کو ریلیز کیے جانے پر مکمل سیکیورٹی نہیں دے سکتے یہی وجہ ہے کہ فلم کو راجستھان کے کسی بھی سینما ہال میں ریلیز کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ راجستھان کی وزیراعلی وسوندرا راجے نےمزید کہا کہ رانی پدمنی کی قربانیاں ہماری ریاست کے لیے باعث فخر ہیں، اسی لیے رانی پدمنی ہمارے لیے تاریخ کا صرف ایک باب نہیں بلکہ ہمارا وقار ہیں، ہم اس بات کی بالکل اجازت نہیں دیں گے کہ ہماری رانی کی عزت پر کوئی بھی حرف آئے

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں