’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے۔۔۔آج بھی بھٹو زندہ ہے‘‘سندھ میں تعلیم کیلئے مختص 200ارب روپیہ کیاں گیا ۔۔۔تہلکہ خیز انکشاف
zulfiqar ali bhutto sindh education

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے کہا ہے کہ سندھ کے 50 فیصد سرکاری اسکولوں میں پینے کا صاف پانی اور بیت الخلا موجود نہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یونیسف نے سندھ میں تعلیمی صورتحال کی قلعی کھول دی اور 200 سے زائد ارب کے بجٹ کے باوجود سندھ میں تعلیمی ادارے زبوں حالی کا شکار ہیں۔ یونیسیف نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ صوبے کے 50 فیصد میل اور 47 فیصد زنانہ پرائمری اسکول بیت الخلا سے محروم ہیں جب کہ لڑکوں کے 53 فیصد اور لڑکیوں کے 54 فیصد پرائمری اسکولوں میں پینے کا صاف پانی بھی میسر نہیں۔رپورٹ کے مطابق سندھ کے 30 فیصد بوائز اور 29 فیصد گرلز مڈل اسکولوں میں بھی بیت الخلا کی سہولت موجود نہیں 40 فیصد بوائز اور 39 فیصد گرلز اسکول بھی پانی سے محروم ہیں۔واضح رہے کہ حکومت سندھ نے رواں مالی سال کے بجٹ میں وسائل کا سب سے زیادہ حصہ 202 ارب روپے تعلیم کے شعبے کے لئے مختص کیا ہے تاہم زمینی حقائق اور اقوام متحدہ کی رپورٹ سے حکومت کے دعوؤں کی نفی ہورہی ہے۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں