جیو ملازمین کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر میر شکیل الرحمان سپریم کورٹ طلب
supreme court of pakistan mir shakeel ur rehman salary

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے جیو نیوز کے ملازمین کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر چینل کے مالک میر شکیل الرحمان کو سپریم کورٹ طلب کرلیا

چیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ میر شکیل الرحمن بتائیں کہ تنخواہیں کیوں ادا نہیں ہوئیں؟، مالک کو کفالت کا حق ادا کرنا ہے، چیف جسٹس نے حامد میر سے کہا کہ آپ بھی کہہ رہے ہیں تنخواہ نہیں مل رہی، تنخواہ نہ ملی تو حامد میر کی مرسڈیز گاڑی کیسے چلے گی۔سپریم کورٹ میں جیو ملازمین کو تین ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے معاملے کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔ سپریم کورٹ نے جیو کے مالک میر شکیل الرحمان کو کل منگل کو طلب کرلیا۔، اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ لوگ مجھے ابھی تک سمجھ ہی نہیں پائے، میرے خلاف شکایت کرنا ہے تو کریں۔حامد میر نے عدالت کو پیمرا قانون میں ترمیم پر رائے دیتے ہوئے بتایا کہ عدالتی ہدایت کے مطابق قانونی ماہرین سے ملاقات کر کے جواب بنایا ہے، بابر ستار عدالت میں موجود ہیں ان سے بھی مشاورت کی ہے ۔ چیف جسٹس نے بابر ستار کو مخاطب کر کے کہا کہ میں نے آپ کو چیف جسٹس بننے سے پہلے بھی کہا تھا کہ تنقید کریں، اب بھی لکھتے ہیں، چیف جسٹس بننے کے بعد بھی لاہور میں ایک تقریب میں بیٹے بابر ستار کو کہا کہ میرے خلاف لکھیں، تنقید کریں، میری اصلاح ہوگی ۔چیف جسٹس نے کہا کہ ایک اینکر کو اڑتیس لاکھ اور دوسرے کو 52 لاکھ روپے تنخواہ ملتی ہے جبکہ ایک رپورٹر کی 12 ہزار روپے تنخواہ ہے وہ بھی نہیں ملتی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ حامد میر صاحب اس معاملے پر پروگرام کرکے اپنے مالک کو بتائیں،آپ کی ایک پاور ہے، آپ صحافیوں کی آواز ہیں  جس پر  حامد میر نےبھی تائید کرتے ہوئے  کہا کہ واقعی پرنٹ میڈیا میں تنخواہیں کم ہیں ۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں