پہلے آپ یہ بتائیں کہ۔۔عمران خان کیخلاف درخواست کی سماعت ، چیف جسٹس نے حنیف عباسی کے وکیل سے ایسا سوال پوچھ لیا کہ
supreme court jahangir tareen imran khan

مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کی جانب سے عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف دائر درخواست کی سماعت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثارکی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔

اس موقع پر حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ عمران خان نے بنی گالہ جائیداد کو تحفہ ظاہر کیا جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آپ پہلے آف شور کمپنیوں پر بات کریں اور بتائیں کہ کس طرح عمران خان نے قانون کی خلاف ورزی کی؟ جسٹس فیصل عرب نے استفسار کیا کہ آپ نے ارکان پارلیمنٹ میں سے صرف عمران خان کو ہی کیوں چنا؟ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا مجموعی طور پر 3لاکھ 85ہزار امریکی ڈالر جمع ہوئے،آپ یہ کہنا چاہتے ہیں عمران خان غیر ملکی فنڈنگ قبول کرتے ہیں اورانہوں نے جھوٹ پر مبنی سرٹیفکیٹ دیے،سرٹیفیکیٹ میں عمران خان نے جھوٹ کہا اس بنیاد پر نااہل قراردیا جائے؟تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ اور جہانگیر ترین کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی اور حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ میں آرٹیکل 62 ،633 کے تحت عمران خان کی نا اہلی مانگ رہا ہوں، پی ٹی آئی کے فنڈ میں نومبر 2014میں 45ہزار ڈالرشامل ہوئے اورنومبر و جنوری 2015میں 555ہزار امریکی ڈالر پی ٹی آئی کے پاس آئے۔انہوں نے کہا کہ ایسا شخص آرٹیکل 62 ایک ایف کے تحت نا اہل ہو سکتا ہے اور رائے حسن نواز کیس میں سپریم کورٹ اہلیت سے متعلق فیصلہ دے چکی ہے۔ جسٹس فیصل عرب نے اکرم شیخ سے استفسار کیا کہ انتخابی قوانین کی بنیاد پر آپ رکن پارلیمنٹ کی نا اہلی مانگ رہے ہیں، کیاآپ نااہلی کیلئے کسی اور فورم پر گئے اور الیکشن کمیشن سے رجوع کیا؟ جس کے جواب میں اکرم شیخ نے کہا کہ نہیں میں کسی اور فورم پر نہیں گیا۔سماعت کے دوران حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ میڈیا پر گفتگو سے منع کرنے کے باوجود نعیم الحق  نے احاطہ عدالت میں بات چیت کی جو توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کسی کے اختیارات میں تخصیص نہیں چاہتے لیکن منع کرنے کے باوجود احاطہ عدالت میں گفتگو بڑی بدقسمتی ہے، باہر جاکر جو مرضی کریں لیکن عدالتی احاطے میں ایسا نہ کریںچیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایک امریکی اسکالر نے کہا تھا کہ سیاسی گند کو عدالتی لانڈری میں نہیں دھلنا چاہیے لیکن معاملات عدالت میں آ چکے، ہم انہیں مناسب طریقے سے لے کر چلیں گے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کیس کارروائی میں بات کرنے کے لئے سب سے بہترین شخص وکلاءہیں جب کہ تحریک انصاف کے وکیل انور منصور کا کہنا تھا کہ اپنے پورے کیرئیر میں زیر التوا کیسز پر کبھی بات نہیں کی، جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ فریقین کواپنی رائے کا اظہار کرنے کے لئے عدالتی کارروائی کا سہارا نہیں لینا چاہیئے۔عدالت نے کیس کی سماعت جمعے کی بجائے پیر تک ملتوی کردی ہے۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں