”تحریک لبیک کو رانا ثناءاللہ نے اسلام آباد بھیجا کیونکہ۔۔۔“ معروف صحافی کاشف عباسی نے ہولناک انکشاف کر دیا، جان کر نواز شریف کے غصے کی حد نہ رہے گی
statement rana sanaullah kashif abbasi

معروف صحافی کاشف عباسی نے کہا ہے کہ تحریک لبیک والے پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناءاللہ کے ساتھ معاہدے کے بعد اسلام آباد گئے تھے اور جب ان کے رانا ثناءاللہ کیساتھ مذاکرات ہوئے تو اس دوران گفتگو ہوئی تھی کہ زاہد حامد کا استعفیٰ اسلام آباد سے ملے گا، وہاں چلے جائیں۔

کاشف عباسی نے کہا کہ ”آپ اگر چاروں طرف کی کہانی سنیں تو مجھے یہ نہیں نظر آیا کہ دراصل انہیں کون اسلام آباد لے کر آیا کیونکہ اسلام آباد آتے ہوئے یہ پنجاب حکومت سے معاہدہ کر کے آئے تھے، یہ کسی اور کیساتھ نہیں بلکہ رانا ثناءاللہ سے معاہدہ کر کے آئے اور ان کیساتھ مذاکرات ہوئے تھے۔ تحریک والے پیر کے روز نکلے اور کہا گیا کہ یہ کل یا پرسوں واپس آ جائیں گے، مذاکرات کے دوران یہ گفتگو ہوئی کہ جو مطالبات آپ ہم سے کر رہے ہیں وہ تو ہم مان سکتے ہیں لیکن وزیر قانون کا استعفیٰ اسلام آباد سے ملے گا تو آپ اسلام آباد چلے جائیں۔ ان کے درمیان زبانی معاہدہ ہوا اور پنجاب حکومت کہتی ہے کہ ہم سے غلطی ہوئی ہمیں کاغذ پر لکھ لینا چاہئے تھا، جہاں جہاں سے دھرنے والے آئے، وہاں پولیس نے سیکیورٹی بھی دی اور پروٹوکول بھی دیا گیا، ان کو اسلام آباد لے کر آئے اور یہاں بٹھایا گیا، بہت کچھ چیزوں سے تو پہلے ہی بچا جا سکتا تھا۔ پھر پنجاب ہاﺅس میں مذاکرات ہوئے جس میں وفاق، پنجاب اور علامہ خادم حسین رضوی کے لوگ موجود تھے۔ اس میں بھی بڑی چھوٹی سی ٹرم رکھی گئی کہ فی الحال یہ کر لیں، ہمیں یہاں سے جانے دیں، پھر بے شک یہ کر لئے گا، پنجاب نے منتیں کیں کہ یہ مان رہے ہیں انہیں نکالیں پھر دیکھ لیں گے سارے معاملے کو، لیکن وفاق نہ مانا۔ تو مجھے لگا کہ دھرنے والے بہت تھوڑے وقت کیلئے آنا چاہتے تھے اور جب آ گئے تھے تو واپس بھی جانا چاہتے تھے لیکن انہیں واپسی کا راستہ نہیں مل رہا تھا کیونکہ اگر مطالبات منوائے بغیر چلے جاتے تو سبکی ہوتی۔“

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں