شریف فیملی کے ریفرنس منتقل کرنے کے خلاف درخواست خارج، نیب کو 20 ہزار روپے جرمانہ
sharif family nab supreme court

 سپریم کورٹ آف پاکستان نے شریف فیملی کے ریفرنس منتقل کرنے کے خلاف نیب کی درخواست خارج کرتے ہوئے نیب کو 20 ہزار روپے کا جرمانہ کردیا۔

نیب کی جانب سے شریف خاندان کے ریفرنسز منتقل کرنے کے اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا تھا، نیب نے موقف اپنایا کہ ہائیکورٹ نے حکم لکھوایا کہ شریف فیملی کی اپیلیں پہلے سنی جائیں گی لیکن پھر ہائیکورٹ نے خود سے حکمنامے کو تبدیل کرکے سزا معطلی کی درخواستوں کو پہلے سماعت کے لیے مقرر کردیا،چیف جسٹس نے درخواست غیر سنجیدہ قرار دیتے ہوئے خارج کردی اور نیب کو 20 ہزار روپے جرمانہ کردیا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم میں کیا غیر قانونی کام ہے ؟کون سی درخواست پہلے سننی ہے یہ فیصلہ ہائیکورٹ نے کرنا ہے، انصاف ہونا چاہیے ، احتساب عدالت اپنی کارروائی میں آزاد ہے۔ ہائیکورٹ نے اپیل سننے کا حکم دیا پھر حکم امتناع سننے کے لیے مقرر کردیا ہائیکورٹ کا اختیار ہے وہ جو درخواست چاہے پہلے سنے ، قانون میں اس کی کوئی پابندی نہیں ہے کوئی چیز قانون سے باہر ہوئی تو ہمارے پاس آجائیں عدالتوں میں وکلا کے کہنے پر روز ایسے ہی کیا جاتا ہے۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں