سپریم کورٹ کے حکم پرشریف خاندان کیخلاف بنائی گئی جے آئی ٹی کی اصلیت کھل کر سامنے آگئی
sharif family decision reality against jit supreme court

جب گواہ اپنے سابقہ بیان سے منحرف ہو گئے جس کے سابقہ بیان کے مطابق جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ پیش کی تھی۔

جے آئی ٹی کی روپرٹ کے مطابق مریم نواز اور حسین نواز کے بیچ معاہدہ کے دستاویزات جعلی ہیں کیونکہ 2006 میں کیبلری فونٹ موجود ہی نہیں تھا۔ہیڈلے کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے جے آئی ٹی کا کہنا تھا: انہوں نے بتایا ہے کہ اس ڈیکلریشن میں کیلبری فونٹ استعمال کیا گیا ہے جب کہ یہ فونٹ جنوری 2007 سے قبل استعمال میں نہ تھا اس لیے یہ ڈیکلئیریشن جعلی تصور کیا جانا چاہیے۔ کیلبری فونٹ کا تنازعہ عدالتوں میں بھی زیر بحث رہا اور سوشل میڈیا پر بھی ایک امپریشن بنانے کے لیے مہم چلائی گئی۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ اس وقت بے اثر ہو کر رہ گئی جب کراس ایگزامیننیشن کے دوران ریڈلے نے بتایا کہ ونڈوز وزٹا نے کیلبری فونٹ کے تین ایڈیشنز جاری کیے اور پہلے 31 جنوری 2007 کو جاری کیا گیا۔ ونڈوز وزٹا بیٹا کا پہلا ایڈیشن 2005 میں آئی ٹی ایکسپرٹس کو مہیا کیا گیا اور ہزاروں لوگوں نے یہ ورژن ڈاون لوڈ کیا۔ ریڈلے نے بتایا کہ انہوں نے خود تقریبا 20 بار یہ ورژن ڈاون لوڈ کیا۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی رپورٹ کو اپ ڈیٹ کیا جا سکتا ہے کیونکہ انہوں نے یہ رپورٹ جلدی میں بنائی تھی۔ ان کی اس گواہی کے بعد جے آئی ٹی کی رپورٹ پر بہت سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ایک اور اہم معاملہ اس وقت سامنے آیا وہ یہ تھا کہ پاکستان میں جو یہ تاثر دیا گیا تھا کہ ریڈلے ایک فونٹ ایکسپرٹ ہیں وہ اس وقت زائل ہو گیا جب ریڈلے نے کہا کہ وہ ہینڈ رائٹنگ ایکسپرٹ ہیں۔ انہوں نے خود اعتراف کیا کہ وہ آئی ٹی ایکسپرٹ نہیں ہیں اور نہ ہی کمپیوٹر ایکسپرٹ یا قانونی ماہر ہیں۔ ریڈلے نے بتایا کہ انہوں نے ٹرسٹ ڈیڈ کو پڑھا ہی نہیں تھا اور صرف 2 حلف نامے دیکھے جن پر انہیں تبصرہ کرنے کو کہا گیا تھا اور لوکل وکیل اختر ریاض راجہ نے انہیں یہ بھی نہیں بتایا تھا کہ وہ اس رپورٹ کو کس مقصد کےلیے استعمال کرنے والے ہیں۔ اختر راجہ جنہیں ایک ماہر قانون کے طور پر پیش کیا گیا وہ واجد ضیا کے کزن تھے اور واجد ضیا نے انہیں ایک بہت بڑی رقم دے کر اپنا کام کرنے پر راضی کیا تھا۔ یہ ایک بے ایمانی کا کیس جے آئی ٹی کے سربراہ پر بنتا ہے جنہوں نے سپریم کورٹ کے بھروسے کو ٹھیس پہنچائی اس لیے سپریم کورٹ کو ان کے خلاف ایکشن لینا چاہیے۔حیرت کی بات یہ بھی ہے کہ اختر راجا نے کراس ایگزامینیشن کے دوران اعتراف کیا کہ ان کی گواہی ڈان کے ایک آرٹیکل سے حاصل شدہ معلومات پر مبنی ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ ریڈلی نے اپنی گواہی ریکارڈ کروانے سے ایک دن قبل نیب کے تفتیشی افسروں سے میٹنگ کی تھی جو کہ اخلاقیات کے سخت خلاف ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نیب کے افسران کسی بھی قیمت پر اپنی سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتے تھے۔ ان حقائق کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جے آئی ٹی کی تحقیقات محض ایک دھوکہ تھیں اور ان میں اںصاف کا کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ لگتا ایسے ہے کہ اب ایک اور جے آئی ٹی بنائی جائے جو سابقہ جے آئی ٹی کے خلاف تحقیقات کرے۔ پانامہ کیس ایک بہت بڑا اور ہائی پروفائل کیس تھا جس میں وزیر اعظم کے خلاف تحقیقات کی جا رہی تھیں اس لیے لازمی تھا کہ بہت ہی مستند اور ناقابل اعتراض ثبوت پیش کیے جاتے جو عدلیہ کے وقار پر دھبہ ثابت نہ ہو سکیں۔ اس کیس میں معمولی اور متنازعہ ثبوتوں کا سہارا لینا بہت بڑی غلطی تھی۔ جے آئی ٹی نے یہ اہم معاملہ مکمل طور پر نظر انداز کیا۔ رابرٹ ریڈلی کے کراس ایگزامنیشن کے بعد جو نتائج سامنے آئے ان سے ثابت ہوتا ہے کہ جے آئی ٹی کے سربراہ نے ایک جانبدار رویہ اختیار کیا اور شریف فیملی کے خلاف پیش کی جانے والی دستاویزات کے مستند ہونے پر بھی اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔فری مین سولیسٹرز کے ایک وکیل نے گواہی دی کہ انہوں نے ٹرسٹ ڈیڈ کو خود دیکھ کر اپنی مہر بھی اس پر لگائی تھی اور یہ اوریجنل ڈاکیومںٹ تھی۔ یہ شہادت اس لیے اہمیت کی حامل ہے کہ یہ ثابت کرنا ممکن ہی نہیں ہے کہ انگریز وکیل نے اس بات کی گواہی دینے میں کہ ڈیڈ پر دستخط 2006 میں ہوئے کوئی غلطی اور بے ایمانی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس شہادت سے شریف فیملی کے بیانیہ کو مزید تقویت ملی ہے کہ انہیں جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سچ یہ ہے کہ پانامہ کیس شروع دن سے ہی متنازعہ رہا ہے۔ سپریم کورٹ کا وزیر اعظم کو نا اہل کرنے کا فیصلہ بھی پٹیشن کی درخواست کے مطابق نہیں تھا۔ اس کی بجائے نواز شریف کو اپنے بیٹے کی کمپنی سے غیر وصول شدہ تنخواہ کا اثاثوں میں ذکر نہ کرنے پر نا اہل قرار دیا گیا۔ اس غیر موصول شدہ تنخواہ کو بھی سپریم کورٹ نے اثاثہ قرار دیا اور پھر اقامہ کو بھی نا اہلی کے لیے استعمال کیا۔ قانونی اور آئینی ماہرین نے اس فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ عمران کے کیس میں بھی فیصلہ بہت متنازعہ ثابت ہوا یہاں تک کہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اعتراف کیا کہ عمران خان کو ریلیف دیا گیا ہے جب کہ ان کا معاملہ بلکل نواز شریف کے کیس جیسا تھا۔اس کے بعد عمران خان نے خود ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلے کو کمزور قرار دیا اور کہا کہ کیس پانامہ کا تھا لیکن نواز شریف کو اقامہ کی بنیاد پر نا اہل کیا گیا۔ سب سے افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں سے اس کی توقیر میں اضافہ نہیں ہوا۔ عوام یہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ اس فیصلے میں انصاف کیا گیا ہے۔ نواز شریف کو عوام سے جو حمایت مل رہی ہے اور وہ الیکشن میں مسلسل جیت رہے ہیں اس سے عوام کا رد عمل صاف نظر آتا ہے۔ چکوال اور لودھراں کے الیکشن کی مثال آپ کے سامنے ہے۔عدلیہ ملک کا سب سے با عزت ادارہ ہوتا ہے اور ایک نظام کی کامیابی کا راز اس کے عدل کے نظام میں پوشیدہ ہے۔ ن لیگ اور عدلیہ کے بیچ تصادم کا معاملہ قومی مفاد میں نہیں ہے۔ میں نے اپنے کالمز میں با قاعدگی سے اس بات پر زور دیا ہے کہ سپریم کورٹ کو پی ٹی آئی کی پٹیشنز قبول ہی نہیں کرنی چاہیے تھیں کیونکہ یہ ایک مخمصے والا معاملہ تھا جس سے عزت بچا کر نکلنا سپریم کورٹ کے لیے ممکن ہی نہیں تھا۔ سپریم کورٹ نے پٹیشنز اپنے ہاتھ لے لیں اور نتیجہ آپ دیکھ سکتے ہیں۔ اگرچہ نہ لیگ کے لیے بہتر ہے کہ مزاج میں نرمی اختیار کرے لیکن عدلیہ کے لیے بھی ضروری ہے کہ اگلے کیسز میں ایسے انصاف کرے کہ انصاف ہوتا نظر آئےاور ایسی کوتاہیاں نظر نہ آئیں جو ایون فیلڈ کیس میں نظر آئی ہیں۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں