پنجاب کے تعلیمی اداروں میں طلبا کا منشیات ٹیسٹ کروانے کا فیصلہ
schools drugs punjab

حکومتِ پنجاب نے صوبے کے تمام نجی و سرکاری اسکولوں میں طالبعلموں کا منشیات ٹیسٹ کروانے کا فیصلہ کرلیا جس کے نتائج سے ان کے والدین کو بھی آگاہ کیا جائے گا۔

 یہ اعلان صوبائی وزیر برائے تعلیم مراد راس نے کیا، مذکورہ اقدام حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں میں منشیات کی روک تھام کے لیے جاری مہم کا حصہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ حکومت نے محکمہ صحت، انسدادِ منشیات فورس کے تعاون سے ایک منصوبہ تیار کیا ہے جس کے تحت تمام طالبعلموں کا منشیات ٹیسٹ کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو اسکولوں میں آئس نشے کے استعمال کی رپورٹس موصول ہورہی تھییں جس پر محکمہ تمام اسکولوں کا دورہ کرے گا اور ضلعی تعلیمی انتظامیہ کے چیف ایگزیکٹو افسران اپنے علاقوں کے منشیات سے پاک اسکولوں کو ایفیڈیوٹ جاری کریں گے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ایفیڈویٹ دیے گئے کسی اسکول کے ٹیسٹ کے دوران کسی طالبعلم کا منشیات ٹیسٹ مثبت آیا تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔مراد راس کا مزید کہنا تھا کہ وزارت تعلیم کی جانب سے صوبے کے تمام ڈپٹی کمشنرز کو کسی بھی تعلیمی ادارے کے اطراف میں 500 گز کی حدود سے تمام پان سگریٹ کی دکانیں بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’ہمیں معلوم ہوا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر دکانیں طالبعلموں کو منشیات فروخت کررہی ہیں یا سہولت کار کا کردار ادا کررہی ہیں‘۔اسکولوں کی فیس کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت 5 ہزار سے زائد فیس لینے والے اسکول والدین کو 20 فیصد رقم واپس کریں گے، اگر کوئی اسکول اس عدالتی حکم پر 12 اپریل تک عملدرآمد کرنے میں ناکام رہا تو حکومت ایسے اسکول کی رجسٹریشن منسوخ کر کے اس کو بند کردے گی۔انہوں نے کہا کہ اگر اسکول والدین کو فیس کی اضافی رقم دینے سے انکار کردیں تو 7251212-0336 پر شکایت درج کروائی جاسکتی ہیں اور اس قسم کی شکایات کو فوری طور پر حل کیا جائے گا۔اس کے علاوہ صوبائی وزیر تعلیم نے بتایا کہ پنجاب میں تعلیمی سال کا آغاز یکم اپریل سے کیا جائے گا جبکہ انرولمنٹ یکم مارچ سے شروع کردی جائے گی جبکہ گرمیوں کی چھٹیاں یکم جون سے 11 گست تک کی جائیں گی۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں