آڈٹڈ اکاﺅنٹس کی انکوائری نہیں ہوسکتی: وکیل عمران خان ،آرٹیکل 17میں ہرسیاسی جماعت اپنے فنڈز کا حساب دینے کی پابند ہے: چیف جسٹس
remarks judge audit supreme court

لیگی رہنماءحنیف عباسی کی درخواست پر عمران خان کیخلاف سماعت کل تک ملتوی کردی اور عمران خان کے وکیل انورمنصور کے موقف کے برعکس عدالت نے واضح کیا کہ الیکشن کمیشن معاملات کو دیکھ سکتاہے ، تحقیق کرسکتاہے،جو بھی آرڈر پاس کیا جاتا ہے وہ کسی انکوائری کی بنیادپر ہوتاہے۔
سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران انور منصور خان نے موقف اپنایاکہ فارن فنڈنگ سے متعلق تحریک انصاف اور عمران خا ن کو نشانہ بنایا جارہاہے ، جب آڈٹڈ اکاﺅنٹس ریکارڈپرا ٓجائیں تو انکوائری نہیں ہوسکتی جس پر جسٹس عمرعطاءبندیال نے کہاکہ اگر باہر سے کوئی فنڈ میں آجائے تو کیا ای سی پی تحقیق کرسکتا ہے ؟ عمران خان کے وکیل انورمنصور نے بتایاکہ قانون کے اندر اتھارٹی موجود نہیں جس پر چیف جسٹس کاکہناتھاکہ آرٹیکل 17کہتا ہے کہ ہرسیاسی جماعت اپنے فنڈزکا حساب دےگی ، اس معاملے پر کیسے الیکشن کمیشن انکوائری نہیں کرسکتا ،رول 6پڑھ لیں۔ جسٹس فیصل عرب نے استفسار کیا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ ساری ذمے داری آڈیٹر پر ہے ، کوئی سیاسی جماعت تفصیلات چھپا بھی سکتی ہے ، تفصیلات چھپانے پرکیا کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوسکتی ؟ انور منصور نے کہاکہ سب نے حساب دیناہے ہم نے حساب دیا ،انھوں نے تسلیم کرلیا۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا یہ قبولیت اپلیکیشن آف مائنڈ پر ہے؟ کیا قبولیت کا ثبوت یہ ہے کہ انتخابی نشان الاٹ کردیا گیا؟ ہرسال آپ کو انتخابی نشان الاٹ نہیں ہوتا،کیا کہیں گے؟ انور منصور نے کہاکہ انتخابی نشان ہرسال واپس بھی لیا جاسکتاہے، ابھی کچھ عرصہ قبل تحریک انصاف کا انتخابی نشان واپس لیا گیا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ جب پوچھاجائے کہ باہرسے پیسے آئے توآپ کہتے ہیں ساری تفصیلات دےدیتے ہیں، مقدمہ ہے کہ اکاؤنٹ میں ممنوعہ فنڈنگ آئی؟اس کی تحقیقات کس نے کرنی ہے؟ آرٹیکل 3/184میں تحقیقات ہم نے خود کرنی ہے یا کوئی فورم موجود ہے؟انورمنصور نے کہاکہ ہم نے تمام ذرائع بتادیے ہیں۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں