گرفتار ایم کیو ایم کارکنوں کو ’را‘ نے تربیت فراہم کی
rao anwar ssp mqm weapons karachi

کراچی کی پولیس نے بھارت پر متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنوں کو عسکری تربیت فراہم کرنے کا الزام عائد کیا ہے اور حکومت سے درخواست کی ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ پر پابندی عائد کی جائے۔

متحدہ قومی موومنٹ کے ترجمان واسع جلیل راؤ انوار کی پریس کانفرنس کو اس سال کا سب سے مزاحیہ لطیفہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ ایک تحریری سکرپٹ تھا جس میں طاہر نامی شخص سے طوطے کی طرح بلواکر بیان لیا گیا۔‘

کراچی میں ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ احسن آباد سے دو ملزمان طاہر لمبا اور جنید کو گرفتار کیا ہے، جن کا تعلق متحدہ قومی موومنٹ سے ہے اور دونوں نے اعتراف کیا ہے کہ انھیں بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی ’را‘ نے عسکری تربیت فراہم کی ہے۔

راؤ انوار کا دعویٰ تھا کہ ایم کیو ایم کے کئی کارندے ہیں، جب کبھی یہاں آپریشن ہوتا ہے تو یہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں پھیل جاتے ہیں، متحدہ قومی موومنٹ ایک سیاسی جماعت ہوتے ہوئے پاکستان کے خلاف کام کر رہی ہے اور تخریب کاری میں اس نے بھارتی ایجنسی ’را‘ کا سہارا لیا ہوا ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ گرفتار ملزمان نے 50 سے زائد ایسے لڑکوں کے بارے میں بتایا ہے جو بھارت سے تربیت یافتہ ہیں یہ لڑکے ہر سیکٹر سے تعلق رکھتے ہیں اور گروہ کی صورت میں بھارت جاتے ہیں۔

راؤ انوار کا کہنا تھا کہ یہ لڑکے کراچی سے بینکاک یا سنگاپور جاتے ہیں، جہاں لندن سیکریٹریٹ سے ذوالفقار حیدر، ندیم نصرت اور محمد انور سے رابطہ کرتے ہیں، جو انھیں وقاص نامی شخص کا فون نمبر دیتا ہے اور وقاص ان کے پیسے سمیت دیگر انتظامات کر دیتا ہے۔


 

ان کا کہنا تھا کہ ’جب یہ لڑکے بھارت میں نئی دہلی ایئر پورٹ پر اترتے ہیں تو مفرور ملزم جاوید لنگڑا اور را کے حکام ان کا استقبال کرتے ہیں اور انہیں فارم ہاؤس لے کر جاتے ہیں جہاں انھیں تربیت فراہم کی جاتی۔ تربیت مکمل ہونے کے بعد لاہور بارڈر سے غیر قانونی طریقے سے پاکستان میں داخل کرایا جاتا ہے۔‘

راؤ انوار کا کہنا تھا کہ اب بھارت کو کوئی ضرورت نہیں ہے کہ اپنے آدمی بھیجے، انھوں نے یہاں ان کو خرید کر لیا ہے۔ ان کے بقول الطاف حسین، محمد انور کو اور وہ نائن زیرو میں فاروق سلیم اور حماد صدیقی سے رابطہ کرتے ہیں جن کے کہنے پر یہ لڑکے شہر میں کارروائیاں کرتے ہیں۔

’کراچی شہر میں بے چینی پیدا کرنے کے لیے بے گناہ شہریوں کو مارا جاتا ہے، ٹارگٹ کلنگ کی جاتی ہے اور پھر شور مچایا جاتا ہے کہ یہاں تو حالات خراب ہوگئے ہیں۔‘

چادر سے سر ڈھکے ہوئے دو ملزمان کو الگ الگ اس پریس کانفرنس میں میڈیا کے سامنے بھی پیش کیا گیا، انھوں نے اپنا نام طاہر اور جنید بتایا اور راؤ انوار کے الزامات کی تائید کی۔ جنید کا کہنا تھا کہ وہ جاوید لنگڑا کا بھائی ہے اور ایک طویل عرصے سے بھارت میں ہے۔

کراچی میں سنہ 1994 کے آپریشن میں راؤ انوار سرگرم رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جس طرح تحریک طالبان پر پابندی عائد کی گئی ہے، اسی طرح متحدہ قومی موومنٹ پر بھی پابندی عائد کی جائے۔ ان کے پاس ملزمان کے پاسپورٹ اور دیگر دستاویزات موجود ہیں اور انھوں نے اپنی مرضی سے بیان بھی دیا ہے یہ تمام شواہد عدالت میں الزام ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں