قندیل بلوچ کے قتل میں مفتی عبدالقوی شامل ہے: والد عظیم
qandeel baloch mufti abdul qawi involved murder

ایڈیشنل سیشن جج ملتان نے قندیل بلوچ قتل کیس میں ملوث ملزم ظفر کی ضمانت منظور کرنے جبکہ ملزم عبدالباسط کی ضمانت خارج کرنے کا حکم دیا ہے۔

مقتولہ کا والد عدالت میں روپڑا اور الزام لگایا کہ اس کی بیٹی کے قتل میں مفتی عبدالقوی شامل ہے۔ عدالت میں ملزموں ظفر اور ٹیکسی ڈرائیور عبدالباسط نے درخواست ضمانت بعد ازگرفتاری دائر کی تھی۔ مدعی اور مقتولہ کے والد عظیم خان نے عدالت میں رونا شروع کردیا اور کہا کہ اس کی عمر 80 سال سے زائد ہے اور وہ خدا کو گواہ بنا کر کہتا ہے کہ ملزموں نے اس کی بیٹی کو قتل کیا ہے۔ ملزم عبدالباسط کار کے ساتھ کھڑا رہا، اصل ملزم حق نواز ہے جبکہ مفتی عبدالقوی بھی شامل ہے جس نے اس کی بیٹی کے خلاف غلط پراپیگنڈہ کیا جس کی وجہ سے ملزموں نے قتل کا پلان بنادیا۔ پراسیکیوشن کے پرائیویٹ وکیل نے کہا یہ غیرت کے نام پر نہیں بلکہ سماجی دباﺅ پر قتل ہے اور یہ دباﺅ مفتی عبدالقوی نے پیدا کیا۔  دوسری طرف مقتولہ قندیل بلوچ، مفتی عبدالقوی، وسیم اور حق نواز کے موبائل فونز کی فورنزک رپورٹ فوررنزک لیبارٹری لاہور سے پولیس کو موصول ہوگئی ہے ۔ مفتی عبدالقوی کو آخری بار قندیل بلوچ کی طرف سے معذرت کے دس پیغامات بھیجے گئے۔ سعودی عرب میں مقیم مقتولہ کے بھائی نے ملزم وسیم کو قتل کرنے کیلئے آخری فون کیا۔ ملتان پولیس کو مقتولہ قندیل بلوچ کے موبائل فون، آئی پیڈ کے علاوہ مفتی عبدالقوی اور دونوں ملزمان کے موبائل فون کی فورنزک رپورٹ موصول ہوگئی ہے۔ پولیس کے مطابق مقتولہ قندیل بلوچ کی مفتی عبدالقوی سے آخری بار بات 22 جون کو شام 6بجے ہوئی اور اس روز قندیل بلوچ کی طرف سے مفتی عبدالقوی کو معذرت کے دس ٹیکسٹ پیغامات بھیجے گئے لیکن مفتی عبدالقوی کی طرف سے جواب نہیں دیا گیا۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں