جہانگیر ترین: تحریک انصاف کا مالدار آدمی
pti supreme court jahangir tareen

جہانگیر ترین کے لیے گذشتہ چند مہینے اچھے نہیں گزرے، رائیونڈ مارچ سے چند دن قبل ہی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے جنرل سیکریٹری پارٹی کی یوتھ ونگ سے ایک اندرونی تنازعے میں الجھ گئے، جس نے فوراً ہی کھلم کھلا لڑائی کا روپ دھار لیا۔پارٹی عہدے سے ان کی برطرفی کا مطالبہ کرتے پوسٹرز راتوں رات شہروں میں آویزاں کر دیے گئے۔

اس کے بعد پی ٹی آئی کے ایڈیشنل جنرل سیکریٹری سیف اللہ نیازی نے مبینہ طور پر جہانگیر ترین سے اختلافات کی بناء پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔سب سے زیادہ پریشان کن واقعہ 25 ستمبر 2016 کو جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین احمد کا استعفیٰ دینا تھا۔ سپریم کورٹ کے سابق جج کو 2015 کے پی ٹی آئی کے پارٹی انتخابات میں ہونے والی "بے قاعدگیوں" کی تحقیقات کا ٹاسک دیا گیا تھا۔الیکشن ٹریبونل اس نتیجے پر پہنچا کہ الیکشن میں "بے پناہ پیسہ" استعمال کیا گیا۔ وجیہہ الدین احمد نے عوامی سطح پر یہ انکشاف، کہ پارٹی انتخابات میں کئی اہم سیٹوں پر دھاندلی کی گئی، کرتے ہوئے جہانگیر ترین سمیت چند اہم رہنماؤں کی برطرفی کا مطالبہ کیا۔کچھ اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی کے ممبران نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "پارٹی کے اندر جہانگیر ترین کی زیرِ قیادت ایک گروپ" نے ٹریبونل کی رپورٹ جاری ہونے کی سخت مخالفت کی تھی۔پی ٹی آئی کے نائب چیئرمین شاہ محمود قریشی نے بھی جہانگیر ترین کی کھلم کھلا مخالفت کی ہے۔ انہوں نے لاہور میں پارٹی انتخابات کی مہم کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ "کارکنوں کے نظریات پیسے کی طاقت کو شکست دے دیں گے۔"پی ٹی آئی کے بانیان اور کور کمیٹی کے ممبران میں سے ایک حامد خان نے کہا تھا کہ وہ پی ٹی آئی کو پی ٹی آئی (ق) نہیں بننے دیں گے۔ یہ اشارہ واضح طور پر جہانگیر ترین کی جانب تھا جو کہ 2000 کی دہائی میں جب مشرف اقتدار میں تھے، تب پاکستان مسلم لیگ (ق) کا حصہ تھے۔بعد میں پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے دونوں افراد کو مصافحہ کروایا اور شاہ محمود قریشی نے بعد میں اپنے بیان کی تردید کی۔ مگر نقصان تب تک ہوچکا تھا اور ایک کمزوری عیاں ہوچکی تھی۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں