آئی پی پی ایس کےساتھ معاہدے ہمارے گلے کاپھندا بنے ہوئے ہیں،چیف جسٹس پاکستان ،وفاقی وزیر عمر ایوب سپریم کورٹ طلب
pti electricity supreme court

پریم کورٹ آ ف پاکستا ن آئی پی پیز کو زائد ادائیگیوں سے متعلق کیس میں وزیر بجلی عمر ایوب کو طلب کر لیا۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے ہیں کہ آئی پی پیز کو عوام کے کروڑوں روپے دے دیئے گئے،چاہے وہ بجلی بنائیں یانہ بنائیں،دنیامیں ایسے معاہدے منسوخ کئے جارہے ہیں،صرف پاکستان میں ایسے معاہدے چل رہے ہیں۔ آئی پی پی ایس کےساتھ معاہدے ہمارے گلے کاپھندا بنے ہوئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے آئی پی پیز کو زائد ادائیگیوں سے متعلق کیس کی سماعت کی،آئی پی پیز کے نمائندے سپریم کورٹ میں پیش ہوئے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ آئی پی پیزکو 159 ملین زائدادائیگی ہوئی،سیکرٹری پاور ڈویژن نے بتایا کہ2002 کی پالیسی کے بعد آئی پی پیز وجود میں آئیں ،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ شکایت ہے بجلی پیدا نہیں ہوئی اور ادائیگیاں کی گئیں،سیکرٹری پاور ڈویژن نے کہا کہ معاہدہ کر رکھا ہے کپیسٹی کے مطابق ادائیگی کرتے ہیں۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آئی پی پیز کو عوام کے کروڑوں روپے دے دیئے گئے،چاہے وہ بجلی بنائیں یانہ بنائیں،دنیامیں ایسے معاہدے منسوخ کئے جارہے ہیں،صرف پاکستان میں ایسے معاہدے چل رہے ہیں۔سیکرٹری پاور ڈویژن نے کہا کہ بجلی نہ خریدیں تو بھی ادائیگی کرتے ہیں۔جسٹس فیصل عرب نے استفسار کیا کہ گورنمنٹ کے پاس بجلی کاشارٹ فال تھا آپ نے سپلائی نہیں کی؟وکیل پاور کمپنی نے کہا کہ این پی سی سی ڈیمانڈ بتاتی ہے، این پی سی سی بتاتی ہے تو آئی پی پی ایس بجلی بناتی ہیں۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آئی پی پی ایس کےساتھ معاہدے ہمارے گلے کاپھندا بنے ہوئے ہیں،عدالت نے وزیربجلی عمرایوب کوطلب کرلیا۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں