بیس جماعتوں کا اتحاد، متحدہ، پی ایس پی ہمارے اتحاد کا حصہ بن جائیں ،مشرف قیادت کیلئے تیار ہیں: اے پی ایم ایل
psp mqm parveez musharaf

سابق صدر پاکستان اور آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ پرویز مشرف نے کہا ہے کہ کراچی میں مہاجر کمیونٹی کے ایک مرتبہ پھر سے متحد ہونے پر خوشی ہے۔

میری ہمدردی ایم کیو ایم کے ساتھ نہیں بلکہ مہاجر برادری کے ساتھ ہے۔ مہاجر برادی کو ایم کیو ایم کا ٹھپہ اتار کر پاکستانیت کا آغاز کرنا چاہئے۔ مہاجر برادری ایک نئی سوچ کا آغاز اپنے آپ سے شروع کرے۔ دریں اثناءآل پاکستان مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد امجد نے کہا ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کی قیادت میں 20 سیاسی جماعتوں پر مشتمل اتحاد تشکیل پا چکا ہے جس کا اجلاس 10 نومبرکو اسلام آباد میں ہو رہا ہے، الطاف حسین مہاجروں کو نہیں بلکہ پاکستان مخالف قوتوں کو سپورٹ کرتے ہیں۔ ایم کیو ایم اور پاک سرزمین پارٹی ہمارے اتحاد کا حصہ بنے تو پرویز مشرف قیادت کر سکتے ہیں۔ آل پاکستان مسلم لیگ اپنی اتحادی جماعتوں کے ساتھ 2018کے انتخابات میں حصہ لے گی۔ جلسے سے مشرف ٹیلیفونک خطاب میں دسمبر کے مہینے میں ہی پاکستان واپسی کا اعلان کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو کراچی کے مقامی ہوٹل میں اے پی ایم ایل سندھ کے کونسل کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس خطاب کرتے ہوئے کیا۔دوسری جانب سابق صدر آصف علی زرداری نے ایم کیو ایم کو ساتھ ملانے کیلئے رابطے اور ملاقاتیں کی ہیں۔ آصف علی زرداری ایم کیو ایم کے ساتھ اشتراک کیلئے پرامید ہیں اور وہ سابق گورنر عشرت کے ساتھ تعاون کے خواہاں ہیں۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے منگل کو ایم کیو ایم کی سینیٹر خوش بخت شجاعت اور رکن قومی اسمبلی محمد علی راشد سے ملاقات کی تھی جس میں انہوں نے کراچی کی سیاست میں سپیس تلاش کرنے کی کوششیں کی تھی اور نئے امکانات کا جائزہ لیا تھا۔ بدھ کو بھی ایم کیو ایم کے دو ارکان اسمبلی سلمان مجاہد بلوچ اور ڈاکٹر فوزیہ نے آصف زرداری سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ ملاقات میں ملک کی سیاسی صورتحال اور کراچی کے حالات پر بات چیت کی گئی۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ایم کیو ایم کی اندرونی صورتحال کے باعث جماعت کے ارکان متبادل آپشن پر کام کر رہے ہیں، ملاقاتیں اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں