مرغی کا گوشت مضر صحت نہیں: رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش
poultry chicken supreme court

 پولٹری فیڈ سے متعلق از خود نوٹس کیس میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ہیں کہ خوشی ہے کہ مرغی کا گوشت اور فیڈ مضر صحت نہیں ہے اور کھانے کے قابل ہے۔ 

عدالت نے مرغی کے گوشت اورخوراک کی رپورٹ مثبت آنے پر از خود نوٹس نمٹا دیا۔چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے از خود نوٹس کی سماعت کی۔ عدالتی حکم پر ڈاکٹر فیصل مسعود عدالت پیش ہوئے اور عدالت کو آگاہ کیا کہ مرغی کا گوشت مضر صحت نہیں ہے تاہم مرغی کے پنجوں میں جراثیم پائے جاتے ہیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کے شکرگزار ہیں، آپ نے ہر دکان، سٹور پر خود جا کر رپورٹ تیار کی ہے۔عدالتی معاون نے دوران سماعت عدالت کو بتایا کہ تحصیل لیول پر انسپکٹرز تعینات کر دیئے گئے ہیں جو مرغیوں کی فیڈ سے متعلق رپورٹس حاصل کرتے رہیں گے۔ چیف جسٹس نے واضح کیا کہ اچھی بات ہے کہ ہمارے معاملات جلد حل ہو رہے ہیں، از خود نوٹسز پر حل نکلنا اچھی بات ہے اور خاص طور پر ریلوے والوں کو اعتراض نہ ہو کہ انکے معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں، 150 سال سے ریلوے کا محکمہ قائم ہے اور یہ کہہ رہے ہیں کہ سب اچھا ہے۔عدالت نے تسلی بخش رپورٹ کی روشنی میں مرغیوں کے ناقص گوشت اور فیڈ سے متعلق از خود نمٹا دیا

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں