پاناما لیکس کا فیصلہ، انتظار کی گھڑیاں ختم
panama leaks supreme court nawaz sharif

اٹارنی جنرل آف پاکستان اشتر اوصاف کا کہنا ہے کہ پاناما لیکس کا کیس حل ہونے کے قریب ہے 

جمعہ تک پاناما لیکس کا فیصلہ سنا دیا جائے گا۔ اسلام آباد میں خصوصی گفتگو میں اٹارنی جنرل آف پاکستان اشتر اوصاف کا کہنا تھا کہ انتظار کی گھڑیاں ختم ہونے کے قریب ہیں، پاناما کیس کا فیصلہ جمعہ تک آجائے گا۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے آج اس کیس کی سماعت کا اختتام کرتے ہوئے کہا، ’’ اگر فیصلہ کسی ایک پارٹی کے مفاد میں نہیں ہو گا تو کہا جائے گا کہ عدلیہ کرپٹ ہے یا یہ کہ ججز اس قابل نہیں ہیں کہ اس کیس کو ہینڈل کر سکیں۔ اور اگر فیصلہ اس پارٹی کے حق میں آئے گا تو کہا جائے گا کہ ان سے بہتر تو کوئی جج ہو ہی نہیں سکتا۔‘‘ جسٹس آصف سعیدکھوسہ نے کہا کہ وہ قانون کے مطا بق اس کیس کا ایسا فیصلہ کریں گے کہ بیس برس بعد بھی لوگ کہیں گے کہ اس کیس کا فیصلہ قانون کے مطابق کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں وکلا ء دفاع اور استغاثہ کے دلائل کے اختتام کے بعد سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ وہاس کیس کے فیصلے کو محفوظ کر رہے ہیں اور تفصیلی فیصلے کو بعد میں سنایا جائے گا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے 23 فروری کو کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ پاناما کیس کا آغاز پاناما لیکس منظرعام آنے کے بعد ہوا تھا۔ پاناما پیپرز ، جو کے انٹرنیشنل کنسورشیم آف انوسٹیگیٹو جرنلسٹس کی ویب سائٹ پر موجود ہیں، نے یہ ظاہر کیا تھا کہ پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کے بیٹی مریم اور بیٹا حسن اور حسین آف شور کمپنیوں کے مالکان ہیں۔ پاناما لیکس میں یہ بات سامنے آئی کے لندن میں مے فئیر فلیٹس آف شور کمپنیوں کی ملکیت ہیں اور یہ آف شور کمپنیاں شریف خاندان کی ملکیت ہیں۔‘‘ اس کے بعد پاکستان میں بھی نواز شریف پر دباؤ بڑھ گیا۔ جس کے بعد وزیر اعظم نے ایک تقریر کی اور پھر پارلیمنٹ سے بھی خطاب کیا۔اس معاملے پر اس وقت اپوزیشن پارٹی پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا تھا کہ چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن بنایا جائے۔ وزیر اعظم نے عمران خان کی درخواست پر ریٹائرڈ ججز کی سربراہی میں کمیشن بنانے کی تجویز دی تھی، جسے عمران خان نے قبول نہیں کیا تھا۔ وزیر اعظم نے پھر چیف جسٹس آف پاکستان کو کمیشن بنانے کے لیے خط لکھ دیا تھا۔ وزیر اعظم کے خط کے جواب میں اس وقت کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا تھا کہ 1956 کمیشن آف انکوئری ایکٹ کے تحت کمیشن بیکار ہو گا اور اس حوالے سے قانون بنایا جائے اور بتایا جائے کہ کن افراد کے خلاف تحقیقات ہونی چاہیے۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں