پاناما فیصلہ، عمران تسبیح کرتے رہے، باہر نکلتے ہی بابراعوان نے روک کر فیصلہ سمجھایا
panama case supreme court imran khan

پانامہ کیس کے فیصلے میں قوم کی توجہ اقبال کے ایک شعر کی طرف دلائی گئی 

’’صورت شمشیر ہے دست قضا میں وہ قوم، کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب‘‘ عدالت نے کہا کہ اقوام عالم میں سر فخر سے بلند کرنے کے لئے علامہ اقبال کے اس شعر پر توجہ دینا ہوگی۔ پانامہ کے فیصلے میں مشہور ناول ’’دی گاڈ فادر‘‘ کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ پاناما فیصلے کے آغاز میں جسٹس آصف سعید کھوسہ نے 1969 کے مشہور ناول دی  گاڈ فادر کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ’’ہر عظیم قسمت کے پیچھے ایک جرم ہوتا ہے‘‘۔ پانامہ کیس کا فیصلہ سنتے ہوئے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان مسلسل تسبیح کرتے رہے۔ شیخ رشید کالا چشمہ پہن کر کمرہ عدالت میں داخل ہوئے جبکہ فیصلہ سنتے ہی عمران خان فاتحانہ انداز میں باہر نکلنے لگے تو بابر اعوان نے روک کر فیصلہ سمجھایا جس پر عمران خان کچھ مایوس ہوگئے۔ پانامہ کیس کا فیصلہ سننے کیلئے کمرہ عدالت مسلم لیگ ن، تحریک انصاف رہنما، وکلاء اور میڈیا نمائندوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔عمران خان شیخ رشید اور سراج الحق کے لیے پہلے نشستیں بک کرکے کارکنان کو بٹھادیا گیا تھا دن ایک بجے کمرہ عدالت جب کھولا گیا تو شیریں مزاری تیزی سے سب سے پہلے کمرہ عدالت پہنچیں۔ فاضل بنچ نے فیصلہ سنانا شروع کیا تو تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کھڑے ہوگئے لیکن جب فیصلہ کی مختصر تفصیل بتائی گئی تو خان صاحب بیٹھ گئے لیکن مسلسل تسبیح کرتے رہے۔ فاضل جسٹس آصف سعید کھوسہ نے جب اختلافی نوٹ پڑھ کر سنایا تو کمرہ عدالت میں موجود تحریک انصاف کے کارکنان نے اسے متفقہ فیصلہ سمجھا عمران خان فاتحانہ انداز میں عدالت سے نکلنے لگے تو سابق وزیرقانون بابر اعوان نے روک کر بتایا کہ نواز شریف کی نااہلی کا فیصلہ دینے والے ججز اقلیت میں ہیں جبکہ اکثریتی فیصلے کے مطابق نواز شریف نااہل نہیں ہیں جس پر عمران خان تھوڑا مایوس ہوکر تیزی سے عدالت سے نکل گئے۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں