پاناما فیصلہ: ن لیگ کی آئندہ الیکشن کیلئے پوزیشن مستحکم ہوگئی
panama case jit supreme court

مسلم لیگ ن پاناما لیکس پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد یہ تاثر بنانے میں کامیاب ہوگئی ہے کہ 2018ءکے آئندہ الیکشن کیلئے ان کی پوزیشن مستحکم ہوگئی ہے اور اس تاثر کی بنیاد پر مسلم لیگ ن میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے 

اس سے پارٹی کارکنوں کا جوش و ولولہ بڑھ گیا ہے اور مایوسی کے بادل چھٹ گئے یں۔ پاناما کیس میں مریم نواز پر الزامات لگائے گئے تھے اور عمران خان، شیخ رشید اور سراج الحق نے اپنی پٹیشنز میں سب سے زیادہ مریم نواز کو ٹارگٹ کیا تھا۔ سپریم کورٹ کی طرف سے بنائی گئی جے آئی ٹی میں مریم نواز کو شامل نہیں کیا گیا،وزیراعطم نواز شریف اور ان کے دونوں بیٹے حسن نواز اور حسین نواز جے آئی ٹی میں صفائی کیلئے پیش ہوں گے، اس سے مسلم لیگ ن آئندہ الیکشن میں مریم نواز کا رول منوانے اور نواز شریف کی لی گیسی برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہے۔ اپوزیشن نے اخلاقی بنیادوں پر وزیراعظم نواز شریف سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے، یہ مطالبہ آئینی اور قانونی بنیاد پر نہیں کیا گیا اگر نواز شریف کے استعفے کا مطالبہ سیاسی بنیادوں پر کیا جاتا تو اچھا ہوتا تاہم پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کا نواز شریف کے استعفے کا مطالبے پر متفق ہونا اپوزیشن میں اہم پیشرفت ہے۔ اس سے مستقبل میں پیپلزپارٹی، پی ٹی آئی، جماعت اسلامی، مسلم لیگ (ق) اور دیگر اپوزیشن جماعتیں قریب آسکتی ہیں، اگر اپوزیشن جماعتوں نے اپنے اندرونی معاملات درست نہ کئے تو پھر شاید وہ آئندہ عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کا اچھا مقابلہ نہ کرسکیں، پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی کو اپنی صفیں درست کرنے کی ضرورت ہے۔ پاناما لیکس پر فیصلہ سےپیپلزپارٹی کا سپریم کورٹ میں نہ جانے کا فیصلہ درست ثابت ہوا ہے۔ سابق صدر آصف زرداری نے گزشتہ روز پاناما فیصلے کے بعد اپنی پریس کانفرنس میں پیپلزپارٹی کے اس موقف کو دہرایا، پیپلزپارٹی سمجھتی ہے کہ پارلیمنٹ میں قانون سازی کے ذریعے سپریم کورٹ کے ججوں پر مشتمل کمیشن کی تشکیل سے بہتر نتائج حاصل کئے جاسکتے تھے۔ پیپلزپارٹی نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو پاناما پر سپریم کورٹ نہ جانے کا مشورہ بھی دیا تھا۔اپوزیشن جماعتیں اپنے اپنے رنگ میں سپریم کورٹ فیصلہ کی تشریح کررہی ہیں اور اپنے راستے نکال رہی ہیں جبکہ ظاہری اور حقیقی فائدہ مسلم لیگ (ن) کو ہوا ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو اپنی بڑی فتح قرار دے کر بھرپور جشن منایا جبکہ تحریک انصاف نے فیصلے پر ردعمل دینے میں تاخیر کردی، فیصلے پر پیپلزپارٹی کا موقف بڑا واضح اور سخت تھا۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں