مشکل وقت میں بیگم کلثوم نواز ایک ہی دن میں وزیر اعظم بن کر بحران سے نمٹ سکتی ہیں
panama case decision supreme court

کورٹ روم نمبر1میں موت کی سی خاموشی چھائی ہوئی تھی جب سپریم کورٹ کے 3رکنی پانامہ بنچ کے معزز جج صاحب نے دھیمے لہجے میں فیصلہ پڑھ کر سنانا شروع کیا۔

کورٹ روم فریقین کے وکلاء کے علاوہ دیگر وکلاء صاحبان ،سیاسی قائدین،ورکرز اور میڈیا کے نمائندوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا، تاہم پاکستان تحریک انصاف کے راہنماؤں اور کارکنوں کے تعداد دیگر سیاسی جماعتوں کی نسبت نہ صرف نمایاں تھی بلکہ فیصلے کے اعلان سے قبل ہی ان کے چہرے بھی جگ مگا رہے تھے جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائدین اور کارکنوں کے چہرے سنجیدہ تھے، شاید انہیں فیصلے کی سنگینی کاادراک پہلے سے ہو رہا تھا۔ کپتان عمران خان کے وکیل نعیم بخاری اپنے ارد گرد بیٹھے ہوئے لوگوں کو کھسر پھسر والے انداز میں حسب عادت اپنی ہلکی پھلکی جگتوں سے محفوظ کر رہے تھے ،کورٹ روم میں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی جس کی وجہ سے حبس ہو رہا تھا، اگرچہ استفسارپر بتایا گیا کہ ائر کنڈیشنڈزاپنی پوری قوت سے چل رہے ہیں لیکن کورٹ روم میں گرمی لگ رہی تھی،ایک موقع پر نعیم بخاری نے ایک کورٹ اہلکار کو مخاطب کر کے کہا کہ یار پہلے بتاتے کہ کمرہ عدالت میں اتنی گرمی ہوگی تو میں’’ کوٹ وچ برف دیاں ڈھیلیاں رکھ کے لے آندا‘‘۔ فیصلہ سنانے کا وقت ساڑھے گیارہ بجے مقرر کیا گیا تھا لیکن کورٹ روم ساڑھے دس بجے ہیمکمل بھر چکا تھا حتیٰ کہ بعض سیاسی رہنما ساڑھے نو بجے ہی سپریم کورٹ کے احاطہ میں پہنچ گئے تھے، 10بجے سے قبل سپریم کورٹ پہنچنے والے سیاسی راہنماؤں میں پاکستان مسلم لیگ(ن) کی سابق وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب ،طاہرہ اورنگزیب،مصدق ملک،زیب جعفر،پاکستان تحریک انصاف سے فواد چوہدری،بابر اعوان،شیریں مزاری،ڈاکٹر عارف علوی،عندلیب عباس،ڈاکٹر یاسمین راشد،نذر محمد گوندل،امتیاز صفدر وڑائچ،ابرار الحق،چوہدری محمد سرور اور حلیم خان جبکہ جماعت اسلامی سے امیر سراج الحق اور لیاقت بلوچ تھے، تاہم بعد ازاں مسلم لیگ(ن) کے عابد شیر علی اور پی ٹی آئی کے شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین بھی پہنچ گئے تھے، اگرچہ سپریم کورٹ سے باہر پاکستان مسلم لیگ(ن) اور پی ٹی آئی کے چند درجن کارکن ایک دوسرے کیخلاف نعرے بازی کرتے نظر آتے لیکن عدالت کے اندر ماحول میں خاص گرما گرمی نہیں تھی تاہم انتظار کی گھڑیاں طویل ہو رہی تھیں بالآخر 12بج گئے جب ہاتھ میں پانی کا گلاس تھامے ایک عدالتی اہلکار جج صاحبان کی آمد والے درواز سے اندر داخل ہوا اور میز پر گلا س رکھ دیا اس کے بعد عدالت کے اندر سیکیورٹی پر مامور ایک پولیس انسپکٹر نے بنچ کے سربراہ والی کرسی کے سامنے مائیک سے اعلان کیاکہ معزز جج صاحبان پہنچنے والے ہیں اس لیئے میری درخواست ہے کہ انکی آمد کے بعد کوئی شخص سرگوشی میں بھی بات نہ کرئے اس کے بعد ایک پروٹوکول افسر داخل ہوا، پانچ کرسیاں معزز جج صاحبان کے انتظار میں باہر نکل آئیں اور 12بج کر 4منٹ پر پانچ جج صاحبان عدالت میں داخل ہوئے، بنچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سب سے پہلے عدالت میں تاخیر سے آنے پر معذرت کی اورپھر ان کی ہدایت پر3رکنی عمل درآمد بنچ کے جسٹس اعجاز افضل خان نے دھیمے لہجہ میں متفقہ فیصلہ سنانا شروع کیا تو کمرہ عدالت میں موجود حاضرین دل کی تیز دھڑکن سے ہمہ تن گوش ہوئے معزز جج صاحب نے پہلے کرپشن اور منی ٹریل سے متعلقہ کیسوں کو نیب میں بھجوانے کا اعلان کیا اور آخر میں وزیر اعظم کی نا اہلی کا بے نظیر فیصلہ سنایا جسے سنتے ہی ہال میں موجود بہت سےلوگوں کے منہ سے بے اختیار آہ نکلی حتیٰ کہ پی ٹی آئی کے وکلاء کے چہرے پہلے لمحے فیصلے کی سنگینی سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے تاہم بعد ازاں اگلے ہی لمحوں میں انکے چہرے خوشی سے دمکنے لگے جبکہ سابق وزیر عابد شیر علی کا چہرہ پھیکا پڑگیا ور وہ کرسی پر بیٹھے بے جان سے نظر آنے لگے، بعد ازاں 5رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے با آواز بلند دوبارہ فیصلہ پڑھ کر سنایا تاہم سنگین نوعیت کے مضمرات کے حامل فیصلے کے بعد ایک طرف پی ٹی آئی کے راہنما فاتح کے طور پر میڈیا سے گفتگو کرنے لگے جبکہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کی مریم اورنگزیب اور انوشہ رحمان بطور وزیر کمرہ عدالت میں داخل ہوئی تھیں تو عدالت سے باہر آتے ہوئے عملاً سابق وزراء ہو چکی تھیں لیکن دونوں خواتین نے میڈیا کے ساتھ پر اعتماد لہجہ میں گفتگو کی اور اپنے تحفظات و جذبات کا مناسب الفاظ میں اظہار کیا، سپریم کورٹ کے اندر اور باہر سیاسی کارکنوں کی بہت زیادہ تعداد نہ تھی، صرف چند درجن کارکن تھے جبکہ عمارت کو باہرسے خاردار تاروں کی تین تہوں سے گھیرا گیا تھا اور ریڈ زون میں تین ہزار پولیس اہلکاروں نے سیکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھالی ہوئی تھیں اور سپریم کورٹ کی جانب شاہراہ دستور پر عام ٹریفک کا داخلہ بند تھا جبکہ سپریمکورٹ کے اندر پولیس کے ساتھ رینجرز کے مسلح جوان استادہ تھے اس کڑی سیکیورٹی میں سپریم کورٹ کے باہر یا اندر کوئی سیاسی دھما چوکڑی نظر نہیں آئی اور مجموعی طو رپر ماحول پر امن رہا ، اسلام آباد میں گزشتہ روز کے خوشگوار موسم میں حکمران جماعت کیلئے ناخوش گوار فیصلہ آیا۔ کرپشن سے شروع ہونے والے فسانہ کا اینٹی کلائیمکس صادق کے ترازو سے تولے جانے والے فیصلہ کے نتیجہ کی شکل میں سامنے آیا۔سپریم کورٹ نے وزیر اعظم کو اس بنا پر نا اہل کیا کہ وہ متحدہ عرب امارات میں اپنے بچوں کی قائم کردہ کمپنی کے رسمی سربراہ تھے اور اس عہدہ پر وہ تنخواہ کے مستحق تھے جو انہوں نے کبھی وصول نہیں کی تھی، یعنی ایک ایسی تنخواہ جو وہ وصول کر سکتے تھے لیکن انہوں نے وصول نہیں کی، انہیں اس بنا پر غیر صادق قرار دیتے ہوئے گزشتہ روز 12بجکر دس منٹ پر نا اہل کردیا گیا جبکہ انکے خلاف کرپشن کے معاملہ کا فیصلہ ابھی ہونا ہے ، بظاہر ایسا لگتا ہے کہ انہیں نا کردہ گناہوں کی سزا ملی کیونکہ کرپشن کے خلاف مہم کی آڑ میں تاحال کرپشن ثابت ہوتی نظر نہیں آتی ابھی تک اُن کے خلاف کرپشن کے الزامات ثابت ہوئے نہ انہیں کرپشن پر کوئی سزا سنائی گئی ملک پہلے سے ہی سیاسی طور پر منقسم ہے اور اب یہ تقسیم اور گہری ہوتی نظر آرہی ہے ، بر طرف وزیر اعظم محمد نواز شریف انتخابات سے چند ماہ قبل اپنے خلاف ہونے والے اس فیصلہ کا سیاسی فائدہ اٹھائیں گے اور وہ یقناً سیاسی شہید کے طور پر اپنے آپ کو پیش کریں گے۔ تاہم اسوقت ملک ایک آئینی و سیاسی بحران میں مبتلا ہو چکا ہے، اگلے 24،48یا 72گھنٹے تک ملک میں اس وقت تک آئینی بحران رہےگا جب تک پارلیمنٹ نیاوزیر اعظم منتخب نہیں کر لیتی نئے وزیر اعظم کے انتخاب کیلئے مختلف نام زیر تجویز ہیں،وزیر اعظم ہاؤس میں گزشتہ روز اس حوالے سے اہم مشاورت ہوئی لیکن حتمی فیصلہ آج ہو گا سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف اس اہم ترین فیصلہ کے بعد ہی عازم لاہور ہوں گے جہاں وہ شاید عوامی عدالت میں اپنا مقدمہ پیش کریں گے جبکہ پی ٹی آئی نے اتوار کو جشن فتح منانے کیلئے پریڈ گراؤنڈ کا انتخاب کیا ہے،دریں اثنا شہباز شریف کی اسلام آباد میں پرواز کی باتیں ہو رہی ہیں اور 45دن کی مدت کیلئے عارضی وزیر اعظم کیلئے بھی مختلف نام زیر گردش ہیں لیکن اس وقت پاکستان مسلم لیگ(ن) جس کڑے امتحان سے گزر رہی ہے اس میں شہباز شریف جنہیں پنجاب میں ’’شہباز سپیڈ ‘‘کے نام سے ایک استعارے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے انہیں اس کڑے سیاسی ماحول میں ایک ایسے وقت میں جب عام انتخابات میں 9۔10ماہ رہ گئے ہوں ہٹانا کسی رسک سے کم نہیں ہو گا۔ پھر اس ماحول میں انتخابی عمل سے گزرنا بھی کٹھن ہو گا۔درحقیقت پی ٹی آئی اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کے مابین پنجاب کی دھرتی ہی اصل سیاسی میدان جنگ ہے۔ جہاں پر شہباز شریف جیسا سخت جان سپہ سالار کامیابی سے جنگ لڑ سکتا ہے ، اِن حالات میں پاکستان مسلم لیگ(ن) کے لیئے سب سے سہل او رموزوں تجویز یہی ہو سکتی ہے کہ محترمہ کلثوم نواز شریف مخصوص نشست پر آکر ایک ہی دن رکن اور اُسی روز وزیر اعظم منتخب ہو سکتی ہیں ،یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جب شریف خاندان قید وبند کے مشکل ترین دور سے گزررہا تھا تو اس کڑے وقت میں بیگم کلثوم نوازنے پارٹی کی قیادت سنبھالی اور مشرف حکومت کو ٹف ٹائم دیا، جبکہ قومی اسمبلی کے ذرائع کے مطابقپاکستان مسلم لیگ(ن) کی خواتین کی مخصوص نشستوں پر نامزدگی کی فہرست ختم ہو چکی ہے یعنی اب مسلم لیگ ن کی کسی نامزد خاتون کا نام رکن اسمبلی کیلئے زیرالتواء نہیں اس لیے صرف ایک رکن خاتون کے مستعفی ہونے کے فوری بعد دوسری خاتون کی نامزدگی سے چند گھنٹوں میں اسے رکن اسمبلی بنایا جاسکتا ہے اور اگر یہ کام ایک ہی دن صبح کے وقت پائیہ تکمیل تک پہنچ جائے اور الیکشن کمیشن اسکا نوٹیفکیشن جاری کردے تو شام کو قومی اسمبلی کا اجلاس بلا کر اسے وزیراعظم منتخب کیا جاسکتا ہے ،یہاں یہ امر قابل زکر ہے کہ مخصوص نشست پر بننے والی خاتون رکن قومی اسمبلی بھی کسی منتخب رکن کی مانند وزیر اعظم بن سکتی ہے تاہم وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف پنجاب کو سنبھالتے ہوئے آئندہ عام انتخابات میں وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر پوری انتخابی مہم کو کامیابی سے لیڈ کر سکتے ہیں۔تاہم اگر وہ اب بھی مرکز میں آتے ہیں تو پنجاب میں شاید کچھ مشکلات پیش آئیں لیکن شہباز شریف مرکز کے سب سے اہم ترین چیلنج سول و فوجی تعلقات کا توازن خوش اسلوبی سے برقرار رکھنے کی صلاحیت کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔ لیکن اس صورت میں انہیں پنجاب کے اہم ترین سیاسی مورچہ سے دستبردار ہونا پڑیگا کیا پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب میں اُن کا کوئی متبادل ڈھونڈ سکتی ہے اس سارے سیاسی جوڑ توڑ میں یہ سوال سب سے اہم ہے تاہم اگر بیگم کلثوم نواز کو بطور وزیر اعظم نہیں لیا جاتا اور قرعہ شہباز شریف کے نام ہی نکلتاہے تو 45دن کیلئے وزیر اعظم بننے کی تجاویز میں شاہد خاقان عباسی،ایاز صادق،خرم دستگیر،احسن اقبال کے نام شامل ہیں،اگر شہباز شریف کوہرصورت مرکز میں لانیکا حتمی فیصلہ ہوجاتا ہے تو 45دن کیلئے بھی بیگم کلثوم نوازکو وزیراعظم بنانا سہل رستہ ہے اور اس راستہ پر جوڑتوڑ کے خطرات بھی کم ہیں۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں