چیف جسٹس کو کوئی حق نہیں کہ کھلی عدالت میں ججز کی تضحیک کریں ،مذاق بنا لیا ہے کسی کا چہرہ اچھا نہیں لگتا اس کی تضحیک شروع کر دیں: جسٹس شوکت عزیز صدیقی
open court judge s controversy contradictory justice shaukat aziz siddiqui cheif justice fun face

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہاہے کہ چیف جسٹس کو کوئی حق نہیں کہ کھلی عدالت میں ججز کی تضحیک کریں ، مذاق بنا لیا ہے کہ کسی کا چہرہ اچھا نہیں لگتا اور اس کی تضحیک شروع کر دیں ، وہ ہماری عزت نہیں کریں گے تو ہمیں بھی اپنے ادارے کے دفاع کیلئے جواب دینے کا حق ہے۔

کیس کی سماعت کے دوران جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے چیف جسٹس ثاقب نثار سے متعلق ریمارکس دئیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس سے دردمندانہ اپیل کرنا چاہتا ہوں، جسٹس صدیقی نے کہا کہ چیف جسٹس کو حق حاصل ہے کہ کہ وہ ہمارے قانون کے خلاف دیے گئے فیصلوں کو کالعدم قرار دیں لیکن چیف جسٹس کو کوئی حق نہیں کہ اوپن کورٹ میں ججزکی تضحیک کریں۔ جسٹس صدیقی نے کہا کہ وہ ہماری عزت نہیں کریں گے تو ہمیں بھی اپنے ادارے کے دفاع کیلئے جواب دینے کا حق ہے، جسٹس شوکت صدیقی نے کہا کہ مذاق بنا لیا ہے کہ کسی کا چہرہ اچھا نہیں لگتا اور اس کی تضحیک شروع کردیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ میں چیف جسٹس نے ایک کیس کے آرڈر میں جسٹس صدیقی کی ذہنیت پر آبزرویشن لکھی تھی۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں