قدرتی آفات معاشرتی برائیوں اور جرائم کا سبب بنتی ہیں
natural disaster reason social issue crime

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ موسمیاتی تغیراور قدرتی آفات دنیا کےلئے بہت بڑا چیلنج ہیں۔

قدرتی آفات انسانی نقل مکانی اور انسانی سمگلنگ سمیت بہت سی معاشرتی برائیوں کا باعث بنتی ہیںجن میںجبری مشقت، انسانی عضاءکی خرید فروخت، جنسی تشدد اور دیگر سماجی و معاشرتی برائیاں شامل ہیں جو کہ ہمارے معاشرے کا بہت بڑا المیہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات سے نمٹنے کےلئے عالمی سطح پرحکمت عملی اپنانا ہوگی تاکہ معاشرے کو ایسی برائیوں سے پاک کیا جاسکے۔فاضل چیف جسٹس نے ان خیالات کا اظہار ایشئن ڈیویلپمنٹ بنک اور سپریم کورٹ آف فلپائنز کے اشتراک سے منعقد ہونے والے تیسرے ایشنئن ججز ماحولیاتی سمپوزیم کے موقع پر کیا۔ سمپوزیم میں فلپائن، برطانیہ، سری لنکا، افغانستان، بنگلادیش اور ملائیشیاسمیت دیگر ایشیائی ممالک کے چیف جسٹس صاحبان، ججز اور مندوبین شریک تھے۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹرجسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ ماحولیاتی تحفظ اور موسمی تغیرات کے منفی عوامل کی روک تھام کے لئے قوانین پر سختی سے عملدرآمد کی ضرورت ہے۔پوری دنیا میں اس وقت ماحولیاتی انحاط کی وجہ سے کرہ ارض میں رونما ہونے والی تبدیلیاںاور اس کے نتیجے میں نوح انسانی کے لئے مستقبل میں درپیش مشکلات ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی ہیں جن کے تدارک کےلئے متعلقہ اداروں کی طرف سے دور رس نتائج کے حامل فوری اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی ایک عالمگیر مسئلہ ہے اور اس شعبے سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کا سخت نوٹس لینا چاہیے۔فاضل چیف جسٹس نے شرکاءکو بتایا کہ کلائمنٹ چینج کے نتیجے میں آنے والی آفتوں سے پاکستان میں کروڑوں لوگ متاثر ہوئے ہیں، ہر سال سیلاب سے لاکھوں ایکڑ رقبہ بنجر ہونے سے لوگ نقل مقانی پر مجبور ہیں، انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات دو طرح کی ہوتی ہیں ، کچھ اچانک آتی ہیں جیسے کہ سیلاب، سونامی اور زلزے وغیر ہ جبکہ کچھ ماحولیاتی تبدیلیاں آہستہ آہستہ آفات کا روپ دھارتی ہیں جیسے کہ خشک سالی وغیرہ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ہر طرح کی آفات سے نمٹنے کےلئے پالیسی مرتب کرنا ہوگی اور ترقی یافتہ ممالک کو پاکستان سمیت دیگر ترقی پذیر ممالک کی ہر ممکن مدد کرنا ضروری ہے۔ فاضل چیف جسٹس نے مزید کہا کہ قدرتی آفات کے نتیجے میں بہت ساری معاشرتی اور سماجی برائیاں جنم لیتی ہیں جس کےلئے مناسب قانون سازی ناگزیر ہے، وقت کا تقاضا ہے کہ کلائی میٹ چینج جسٹس کوکریمینل جسٹس میں ضم کر دیا جائے تاکہ قدرتی آفات کی آڑ میں ہونے والے جرائم میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزائیں دی جاسکیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ ہمیں موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے سنجیدگی سے کام کرنا ہوگا تاکہ قدرتی آفات سے نمٹنے کےلئے قبل از وقت پالیسیاں بنائی جاسکیں اور قدرتی آفات کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ہونے والی نقل مکانیوں کو روکا جا سکے اور آئندہ نسلوں کو ایک محفوظ مستقبل یقینی بنایا جاسکے۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں