’نقیب اللہ بے گناہ تھا جعلی مقابلے میں قتل کیا گیا‘
naqibullah counterfeit competition innocent murder

ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ثناء اللہ عباسی نے کہا ہے کہ نقیب اللہ محسود بے گناہ تھا اور اسے جعلی پولیس مقابلے میں مارا گیا۔

کراچی میں سہراب گوٹھ پر لگائے گئے احتجاجی کیمپ کے دورے کے موقع پر عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تفتیشی ٹیم نے 14 گھنٹوں میں ثابت کیا کہ مقابلہ جعلی تھا اور نقیب اللہ بے گناہ تھا، خیال رہے کہ 14 جنوری کو شاہ لطیف ٹاؤن میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے جعلی پولیس مقابلہ کیا تھا، جس میں نقیب اللہ کے علاوہ مزید 3 افراد کو قتل کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی ماورائے عدالت قتل کی اجازت نہیں ہے، نقیب اللہ محسود کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ ثناء اللہ عباسی کا کہنا تھا کہ پولیس آپریشن کی وجہ سے امن و امان قائم ہوا لیکن پولیس میں کسی کو غیر قانونی کام کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آئی جی نے تحقیقاتی کمیٹی بنائی ہے اور بے گناہ کو انصاف ملے گا، ہم کسی کے خلاف نہیں ہیں لیکن کوئی یہ توقع نہ کرے کہ کسی کا ساتھ دیں گے۔ ثناء اللہ عباسی کا کہنا تھا ہمیں خدا کو جواب دینا ہے جبکہ اس سے پہلے یہاں عدالتوں اور افسران کو بھی دینا ہے، جو اس مقابلے میں ملوث ہے اس کا انجام پوری دنیا دیکھے گی اور ملوث عناصر کو ضرور سزا ملے گی۔ دوسری جانب وزیر داخلہ سندھ سہیل انور سیال کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کسی کو بچانے کی کوشش نہیں کررہی، قانون سب کے لیے برابر ہے، کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں ہونے دیں گے۔ اعلیٰ سطح اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کسی کو اجازت نہیں ہے کہ وہ کسی بے گناہ کو قتل کرے، اس معاملے کی تحقیقات میرٹ پر کی جارہی ہیں اور ملوث افراد کو سزا دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ نقیب اللہ محسود کے اہل خانہ آج ( 23 جنوری) کو ایف آئی آر درج کرائیں گے، جس کے بعد تفتیش کا باقاعدہ آغاز ہوگا۔ سہیل انور سیال کا کہنا تھا راؤ انوار کو اگر تحقیقاتی کمیٹی پر تحفظات تھا اور اگر ان کے پاس نقیب اللہ سے متعلق کوئی ثبوت تھے تو وہ پیش کرنے چاہیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ نقیب اللہ کے معاملے پر تحقیقاتی ٹیم کے کام سے مطمئن ہوں، راؤ انوار ذمہ ہوئے تو ان کا دفاع نہیں کریں گے۔ صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے نقیب اللہ کے علاوہ انتظار قتل کیس اور شاہراہ فیصل پر مبینہ پولیس مقابلے میں مارے گئے مقصود کے حوالے سے بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ تمام مقدمات میں کسی کو بچانے کی کوشش نہیں کر رہے، تینوں مقدمات کی نوعیت الگ ہے اور اس پر تفتیش کی جارہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تینوں مقدمات میں چاہے کوئی بھی ملوث ہو اور وہ کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اس سے قبل وزیرداخلہ سندھ سہیل انور سیال کی صدارت میں ہونیوالے اجلاس میں نقیب اللہ محسود اور انتظار احمد قتل کیس کے معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور تفتیش میں ہونے والی پیش رفت پر غور کرکے مزید احکامات دیے گئے۔ اجلاس میں ایڈیشنل آئی جی کراچی مشتاق احمد مہر، ایڈیشنل آئی جی آفتاب پٹھان،ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ڈاکٹرثناء اللہ عباسی، ڈی آئی جی شرقی سلطان علی خواجہ، ڈی آئی جی جنوبی آزاد خان،ڈی آئی جی سی ٹی ڈی عامرفاروقی ودیگر سینئر پولیس افسران کے علاوہ انتظاراحمد قتل کیس کے تفتیشی افسر نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں نقیب اللہ محسود پولیس مقابلے کی انکوائری کمیٹی نے بھی اجلاس کو ہر پہلو اور زاویئے سے کی جانیوالی انکوائری پر بھی بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ انتہائی شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری رپورٹ جلد سے جلد ترتیب دیکر حقائق کو سامنے لایا جائیگا اور قانون کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا۔ مقتول نقیب اللہ محسود کے کزن نور محسود کا کہنا تھا کہ نقیب اللہ کے معاملے پر مقدمہ آج ( 23 جنوری ) کو درج کروایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کیا جائے گا، اس حوالے سے قبائلی عمائدین قانونی ماہرین سے مشاورت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قانونی ماہرین سے مشاورت کے بعد انکوائری کمیٹی کو بیان دیا جائے گا اور نقیب اللہ کے قتل کا مقدمہ درج کرایا جائے گا۔ ادھر نقیب اللہ کے ماورائے عدالت قتل کے بعد اس مبینہ پولیس مقابلے میں دیگر 3 افراد کی ہلاکت کی بھی تحقیقات شروع کردی گئی۔ ڈان نیوز کے مطابق اس حوالے سے پنجاب، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر پولیس سے تینوں افراد کا کرمنل ریکارڈ طلب کرلیا گیا جبکہ پولیس کو تینوں ملزمان کا شناختی کارڈ نمبر، تصاویر اور دیگر معلومات فراہم کردی گئی۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں