سپریم کورٹ کے فیصلے میں حدیبیہ ریفرنس کا ذکر کہاں ملتا ہے؟
  • 0
  • 0

http://tuition.com.pk
nab supreme court

”سپریم کورٹ کے فیصلے میں حدیبیہ ریفرنس کا ذکر کہاں ملتا ہے؟“حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس کیس سماعت کے دوران جج نے نیب پراسیکیوٹر سے اہم سوال پوچھا تو آگے سے ایسا جواب مل گیا کہ آپ بھی حیران رہ جائیں گے

سپریم کورٹ میں شریف خاندان کے خلاف حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس کی سماعت کے دوران جب نیب کے پراسیکیوٹر نے دلائل دینا شروع کیے تو جسٹس مظاہر عالم نے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں حدیبیہ ریفرنس کا ذکر کہاں ملتا ہے؟۔اس پر نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ کچھ افراد کے نام سپریم کورٹ کے فیصلے میں ہیں، ان کا تعلق حدیبیہ ریفرنس سے ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ یہ سب نام تو آپ کے پاس 2000 میں بھی تھے۔ معزز جج نے استفسار کیا کہ کیا اکاونٹ میں پیسے رکھناجرم ہے؟ پراسیکیوشن کا کام ہے بتائے کہ جرم کیا بنتا ہے؟ جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس مظہر عالم خان پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس کھولنے کی نیب کی درخواست پر سماعت کی۔اس دوران معزز جج نے اپنے ریمارکس میں برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نیب کی بنائی گئی کہانی باربار تبدیل ہوجاتی ہے، ہمیں کسی کی ذاتی زندگی میں کوئی دلچسپی نہیں، جو کچھ آپ بتارہے ہیں یہ سب ریکارڈ 2000 میں میسر تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر اسحاق ڈار کو نکال دیا جائے تو آپ کے پاس نیا کیا ثبوت ہے؟ 1992 سے 2017 تک آگئے، ابھی بھی ہم اندھیرے میں ہیں، دراصل ہوا کیا، معلوم نہیں، اس کا بیان اس کا بیان ، یہ سب کیا ہے؟ چارج کس نوعیت کا ہے مجھے سمجھ نہیں آرہا، ہمارے صبر کا امتحان نہ لیں۔ڈپٹی پراسیکیوٹر نے اپنے دلائل میں کہا کہ ہمارے قوانین کے مطابق ملزم کی ذمے داری ہے وہ بے گناہی ثابت کرے۔جسٹس مشیر عالم نے استفسار کیا کہ اسحاق ڈار کے اعترافی بیانات میں موجود حقائق کی تحقیق کی گئی؟ جس پر نیب پراسیکیوٹر نے موقف اپنایا کہ جے آئی ٹی نے اس سے متعلق دستاویزات دی ہیں۔جسٹس مشیر عالم نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہمیں کوئی جلدی نہیں، تاخیر سے ریفرنس دائر کرنا عبور کرلیا تو ممکن ہے کہ بات میرٹ پر آجائے، قانون سب کے لیے ایک ہے۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں