میں ن لیگ کی انتخابی مہم کا حصہ تھا اور میں نے دیکھا شکست کی اصل وجہ یہ ہے کہ۔۔۔“ ن لیگ کی انتخابی ٹیم کے اہم رکن نے انتہائی حیران کن انکشاف کر دیا
  • 0
  • 0

http://tuition.com.pk
n league reason defeat

عام انتخابات کے نتائج پر جتنی بحث ہو رہی ہے اس میں ایک بڑا سوال مسلم لیگ ن کی شکست کی وجوہات پر مبنی ہوتا ہے۔

اب ن لیگ کی انتخابی ٹیم کے ایک اہم رکن نے اس سوال کا ایک حیران کن جواب دے دیا ہے۔ اس رکن کا نام محبوب محسن ہے جو میڈیا پروفیشنل ہیں اور ن لیگ کے منشور کی تیاری میں بھی شامل رہے۔ انہوں نے ڈیلی ڈان کے لیے لکھے گئے آرٹیکل میں کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کے ہاتھ کئی مواقع آئے جب وہ عوام کو اپنی طرف متوجہ کر سکتی تھی لیکن میاں شہباز شریف اور میاں نواز شریف کے بیانیے میں تضاد کے باعث وہ تمام مواقع ضائع ہو گئے اور نتیجہ ن لیگ کی شکست کی صورت میں نکلا۔ پری پول انتظامات، جن میں مسلم لیگ ن کو ایک طرف کیا جا رہا تھا، کے باوجود ن لیگی رہنماءبہت پرامید تھے کہ وہ پنجاب میں حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے اور وفاق کی مخلوط حکومت میں بھی ان کا حصہ ہو گا۔ ان کا خیال تھا کہ ن لیگی امیدواروں کی نااہلیاں اور میاں نواز شریف کی سزا کے فیصلے ان کے حق میں جائیں گے۔ تاہم جب میاں نواز شریف کو جیل کی سزا سنا دی گئی تو شہباز شریف کے پاس اس کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا کہ وہ ’خدمت کو ووٹ دو‘کے نعرے پر زور کم کرکے ”ووٹ کو عزت دو“ کے نعرے کو اپنا لیتے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ محبوب محسن مزید لکھتے ہیں کہ جب میاں نواز شریف لندن سے واپس آئے تو یہ لمحہ ن لیگ کا تھا۔ اس کے ورکرز اور حامی جذباتی کیفیت میں تھے اور شہباز شریف اپنے بڑے بھائی کے بیانیے پر عمل پیرا ہو کر ن لیگ کی مقبولیت کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کرکے ووٹروں کو اپنی طرف راغب کر سکتے تھے لیکن انہوں نے اس موقع پر بہت مایوس کن کام کیا اور نواز شریف کے استقبال کے لیے ایئرپورٹ پہنچنے کی بجائے لاہور کی سڑکوں پر ہی اپنی مایوس کن طاقت کا مظاہرہ کرتے رہے۔ ان کے اس روئیے سے ن لیگ کے حامی بہت مایوس ہوئے۔ میڈیا پر نواز شریف کی واپسی کا معاملہ چھایا ہوا تھا، لیکن مستونگ میں ہونے والے خودکش حملے نے توجہ اپنی طرف مبذول کرا لی اورنواز شریف کی واپسی پس پردہ چلی گئی۔ پری پول اور پوسٹ پول دھاندلی کے الزامات اپنی جگہ لیکن ان وجوہات نے بھی ن لیگ کی شکست میں اہم کردار ادا کیا۔ جب الیکشن کے دن نتائج آنا شروع ہوئے اور کچھ پارٹی پوزیشن واضح ہوئی تو جو میں سوچ رہا تھا، یقینا شہباز شریف بھی وہی سوچ رہے ہوں گے لیکن تب تک پانی سر سے گزر چکا تھا۔

 

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں