ن لیگ کے 4 بڑوں کی لندن میں ملاقات،پارٹی میں سیاسی وراثت کی آویزش عام انتخابات تک رک گئی
n league meeting elections

سینئر صحافی صالح ظافر نے دعویٰ کیا ہے کہ  مسلم لیگ نواز کے چار بڑوں کی پیر کو لندن کی ملاقات کے بعد پارٹی میں سیاسی وراثت کی آویزش آئندہ عام انتخابات کے انعقاد تک رک گئی ہے اس بارے میں کوئی فریق سوال نہیں اٹھائے گا ۔

طے کیا گیا ہے کہ اس نوع کی تقسیم کے معاملے کو ہوادینے والے مسلم لیگ نواز کے بدخواہ قرار پائیں گے۔صالح ظافر کاکہنا ہے کہ  مریم نواز اور حمزہ شہباز کے درمیان مقابلے کی مصنوعی فضا پارٹی کے مخالفین نے سازش کے تحت اس کی صفوں میں داخل کی تھی جس کے نتیجے میں خدشہ پیدا ہوگیا تھا کہ حکمر ان جماعت کی صفوں میں یہ خطرناک تقسیم دو کیمپوں کی شکل اختیار کرلے گی تاہمسابق وزیراعظم نواز شریف نے  سعودی عرب  قیام کے دوران اپنی والدہ کے ہمرکاب عمرے کی ادائیگی کی سعادت حاصل کرنے کے دوران اس کے خطرناک مضمرات کااندازہ کرلیا اور فوری طور پر شہباز شریف کو صورتحال پر قابو پانے کی ہدایت کی جنہوں نے لندن آنے کا قصد کیا ۔مسلم لیگی ذرائع نے بتایا ہے کہ مریم نواز اور حمزہ شہباز کے درمیان مقابلہ آرائی کے تاثر کو یکسر ختم کردیاگیا ہے اس کےساتھ ساتھ یہ تاثربھی نہیں ابھارا جائے گا کہ نواز شریف کے سوا حکمران پارٹی میں کوئی دوسرا رہنما قیادت کی دوڑ میں شامل ہے۔ پاکستان مسلم لیگ نواز اوائل نومبر سے ملک گیر پیمانے پر انتخابی مہم شروع کرے گی جس میں قیادت نواز شریف سے ہی منسوب ہوگی وہ جہاں بھی ہونگے پارٹی ان سے رہنمائی حاصل کرے گی نواز شریف انتخابی مہم کے دوران اہم مقامات پرمنعقد ہونےوالے عام جلسوں سے خطاب بھی کرینگے۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں