'سانحہ ماڈل ٹاؤن پر انصاف احتجاج سے نہیں، عدالت سے ملے گا'
model town tragedy court protest justice

پنجاب حکومت کے ترجمان ملک احمد خان نے کہا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن پر انصاف صرف عدالت سے مل سکتا ہے، لہذا سڑکوں پر آنے کا فیصلہ ایک نامناسب طرز عمل ہے۔

یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس میں ٹرائل کی ضرورت ہے اور وہ صرف انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں ہوسکتا ہے، یہاں تک کہ سپریم کورٹ بھی اس سلسلے میں کچھ نہیں کرسکے گی۔ انہوں نے کہا کہ 'جمہوریت میں احتجاج کرنے کا حق ہر ایک کو ہے، لیکن ہمیں پورا یقین ہے کہ اس مسئلہ کا حل سڑکوں پر نہیں ہے اور آخر میں انہیں واپس عدالت ہی آنا پڑے گا'۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری باقی اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ احتجاج کے لیے باہر نکلے تو حکومت اُس صورت میں بھی پوری ذمہ داری سے کام لے گی اور کوشش یہی ہوگی کہ کوئی ایسا واقعہ نہ پیش آئے جس سے حالات کشیدگی کی طرف جائیں۔ پنجاب حکومت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ہماری بھی ان سے یہی درخواست ہے کہ احتجاج ضرور کریں، لیکن اس بات کو بھی یقینی بنائیں کہ یہ ایک پُرامن احتجاج ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح ڈاکٹر طاہر القادری سانحہ کا براہِ راست ذمہ دار وزیراعلیٰ پنجاب اور صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ کو قرار دے رہے ہیں تو ہمیں بھی پورا حق حاصل ہے کہ ہم اس سنگین نوعیت کے الزام پر اپنا مؤقف پیش کریں، کیونکہ ہم اس بات کو کسی صورت بھی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں، لہذا فیصلہ عدالت میں ہونا زیادہ بہتر ہوگا۔ خیال رہے کہ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے گزشتہ روز مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے خاتمے کے لیے 17 جنوری سے احتجاجی تحریک کا آغاز کرنے کا اعلان کردیا۔ لاہور میں اے پی سی اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے طاہرالقادری نے کہا کہ ’آل پارٹیز کانفرنس میں اتفاق رائے کے بعد وزیرِاعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور صوبائی وزیر قانون رانا ثنااللہ کو استعفوں کے لیے 7 روز کی مہلت دی گئی تھی، لیکن استعفے نہیں آئے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’اب ہم استعفے مانگیں گے نہیں بلکہ زبردستی لیں گے اور اب بات صرف استعفوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ مسلم لیگ (ن) کی جہاں، جہاں حکومت ہے اس کا خاتمہ ہوگا۔‘ واضح رہے کہ 30 دسمبر کو عوامی تحریک کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) نے سانحہ ماڈل ٹاؤن پر وزیرِاعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کو استعفے کے لیے مزید 7 روز کی مہلت دی تھی۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن پر انصاف کے مطالبے نے اس وقت زور پکڑا جب 5 دسمبر کو جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی انکوائری رپورٹ منظر عام پر لانے کی اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے حکم دیا تھا کہ اس رپورٹ کو 30 روز میں شائع کیا جائے۔ یاد رہے کہ 17 جون 2014 کو لاہور کے علاقے ماڈل ٹاون میں تحریک منہاج القران کے مرکزی سیکریٹریٹ اور پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ کے سامنے قائم تجاوزات کو ختم کرنے کے لیے آپریشن کیا گیا تھا۔ آپریشن کے دوران پی اے ٹی کے کارکنوں کی مزاحمت کے دوران ان کی پولیس کے ساتھ جھڑپ ہوئی جس کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ 90 کے قریب زخمی بھی ہوئے تھے۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں