سپریم کورٹ: ادویات کی قیمتوں سے متعلق پالیسی کا طریقہ کار طلب
medicines prices procedures policy supreme court

سپریم کورٹ میں ادویات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے ادویات ساز کمپنیوں اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان ( ڈریپ) سے ادویات کی قیمتوں کے تعین کے لیے پالیسی مرتب کرنے کے ساتھ تمام معاملات کا طریقہ کار طلب کرلیا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کی، سماعت کے دوران ادویہ ساز کمپنی کے وکیل، سیکریٹری صحت سروسز اور ڈریپ کے نمائندے پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران ادویہ ساز کمپنی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے مل بیٹھ کر مختلف عدالتوں میں زیرسماعت مقدمات کی تفصیل فراہم کردی ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جہاں ادارے ناکام ہوجائیں تو کسی نے کام کرنا ہے، لگتا ہے آپ عدالتی اسکوپ سے بھی آگے نکل گئے ہیں، ڈریپ پالیسی کی تشریح ہم خود کریں گے۔ سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اگر ایک دوائی کی قیمت میں 8 فیصد اضافہ ہوگیا تو دوبارہ 8 فیصد اضافے کے لیے رجوع نہیں کیا جاسکتا، جس پر وکیل ادویہ ساز کمپنی نے کہا کہ ڈریپ کو 90 دنوں میں ادویہ ساز کمپنیوں کی درخواست پر فیصلہ کرنا ہوتا ہے اور اگر مقررہ وقت میں فیصلہ نہ کیا جائے تو قیمتوں میں خودکار طریقے سے 8 فیصد اضافہ ہوجاتا ہے۔ ادویات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق کیس میں سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ادویہ ساز کمپنی اور ڈریپ آپس میں مل جائے تو نقصان مریض کا ہوتا ہے۔ چیف جسٹس نے وکیل ادویہ ساز کمپنی سے استفسار کیا کہ بھارت میں ادویات کی قیمتیں کیسے کم ہیں؟ جس پر وکیل نے کہا کہ کچھ ادویات کی قیمتیں کم ہیں لیکن بھارت میں ادویات کے معیار کا مسئلہ ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہماری مارکیٹوں میں بھی غیر معیاری ادویات موجود ہیں۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ پیسے خرچ کرکے دوائی خریدنے والا بیمار سب سے زیادہ مظلوم ہوتا ہے لہٰذا ادویہ ساز کمپنیاں جائز منافع لیں اور ڈریپ مارکیٹ سروے کرکے قیمتوں کا تعین کرے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ڈریپ کے قانون کی کچھ شقیں ایسی ہیں جنہیں نقل کیا گیا، تاہم ہم ادویات کے معاملے کو حل کرکے قوم کو خوشخبری دینا چاہتے ہیں۔ اس موقع پر سیکریٹری صحت سروز نے عدالت کو تمام مسائل کے حل کی یقین دہانی کراتے ہوئے بتایا کہ ادویات کی قیمتوں کا معاملہ کابینہ کے اجلاس میں زیر بحث رہا ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آج کل تقریباً ہر ہفتے وفاقی کابینہ کا اجلاس ہورہا ہے، جس پر سیکریٹری صحت سروسز نے بتایا کہ حکومت نے 2017 میں ادویات کی قیمتوں سے متعلق ایس آر او جاری کیا لیکن سندھ ہائی کورٹ نے اس پر حکم امتناعی دے دیا۔ چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ اپ کی راہ میں ماتحت عدلیہ اور ہائی کورٹ رکاوٹ نہیں بنیں گے۔ ادویات کیس کی سماعت کے دوران ادویہ ساز کمپنی کے وکیل نے مزید دلائل دیے کہ اگر ڈریپ قانون کے مطابق چلے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں لیکن حق نہ ملنے پر عدالتوں سے رجوع نہ کریں تو کہاں جائیں؟ چیف جسٹس نے کہا کہ ادویات کی قیمتوں میں سالانہ اضافے سے متعلق فیصلہ ہم نے خود کرنا ہے، قومی مسائل پر ڈنڈی نہیں مارنی چاہیے، چین کے چیف جسٹس نے مجھ سے ملاقات میں کہا تھا کہ ہمارے لوگ صرف ملک کے لیے سوچتے ہیں، لہٰذا تمام اسٹیک ہولڈرز مل بیٹھ کر مسئلہ کے حل کے لیے روڈ میپ تشکیل دیں۔ سماعت کے دوران جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ روڈ میپ بنا کر ایک ماہ میں نافذ کریں، اس راہ میں کوئی حکم امتناعی حائل نہیں ہوگا۔ چیف جسٹس نے ڈریپ نمائندے سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈریپ دیکھے اس کے قانون میں کہاں کمی یا پیچیدگیاں ہیں اور قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے فارمولا طے کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام چند دنوں میں کریں تاکہ قوم کو خوشخبری دے سکیں اور اگر ڈریپ خود انصاف کرے تو کمپنیوں کو عدالت نہ آنا پڑے۔ بعد ازاں عدالت نے ادویہ ساز کمپنیوں اور ڈریپ سے زیر سماعت مقدمات کے حل کے لیے تجاویز طلب کرتے ہوئے سماعت یکم مارچ تک ملتوی کردی۔ خیال رہے کہ گزشتہ سماعت میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ خدا کی قسم میرا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں، صرف چاہتا ہوں عوام کو دو وقت کی روٹی اور صاف پانی مل جائے۔ 21 فروری 2018 کو چیف جسٹس نے مذکورہ کیس کی سماعت کے دوران کہا تھا کہ ادویات ربڑی تھوڑی ہے جس کا دل چاہے اس قیمت پر فروخت کی جائے، اگر ادویات کی قیمتیں بڑھنے کا کوئی طریقہ کار ہے تو اس کا جائزہ لے لیتے ہیں، کسی کی مجبوری کا فائدہ بھی نہیں اٹھانا چاہیے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے تھے کہ ڈاکٹر کی ادویات بنانے والی کمپنیوں سے محبت ہوتی ہے اور ڈاکٹر بھی وہی دوائی تجویز کرتے ہیں جس کمپنی سے انہیں محبت ہوتی ہے۔ اس سے قبل گزشتہ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ سے ادویات سے متعلق تمام ریکارڈ طلب کرتے ہوئے 15 روز میں حکم امتناع کی درخواستوں پر فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ جان بچانے والی ادویات مہنگے داموں فروخت نہیں ہونی چاہییں اور ادویات کی رجسٹریشن کے لیے جنگی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں