طالبان پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کو پاکستانی لیڈر بنانا چاہتے ہیں ۔ برطانوی جریدے کا دعویٰ
leader taliban imran khan

 برطانوی جریدے نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کو پاکستان کا لیڈر بنانا چاہتے ہیں۔

طالبان چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان پاکستان کے لیڈر ہوں، رپورٹ میں پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کی شخصیت پر تجزیہ بھی کیا گیا۔عمران خان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہی کی طرح بوڑھے ہیں اور ٹرمپ کی طرح اپنے بالوں کی بہت فکر کرتے ہیں ۔ ان پر ٹرمپ ہی کی طرح خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام بھی عائد ہو چکا ہے۔ ج ان سے عائشہ گلالئی سے متعلق سوال کیا گیا تو وہ اپنے ہاتھ میں پکڑی تسبیح کے دانے تیز تیز گھُمانے لگے اور کہا کہ عائشہ گلالئی نے ان پر الزام عائد کرنے کے لیے پیسے لیے۔انٹرویو نگار نے بتایا کہ عمران خان ڈیلی مرر کے لیے مختصر لباس میں جلوہ گر ہو چکے ہیں،وہ کہتے ہیں کہ لوگ مجھ پر ہنسا کرتے تھے لیکن مجھے ہمیشہ سے ہی معلوم تھا کہ میں جیت جاؤں گا۔ عمران خان کا انٹرویو کرنے والے شخص کا کہنا تھا کہ عمران خان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مشابہ معلوم ہوتے ہیں۔ چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بہت بورنگ شخص ہیں، ان میں روحانیت بالکل نہیں ہے، جبکہ میں اگر روحانیت کی طرف راغب نہ ہوتا تو سیاست میں کبھی آتا ہی نہیں۔انٹرویو نگار نے لکھا کہ عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان میں چائنا ماڈل لا کر غربت کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں لیکن جب ان سے دریافت کیا گیا کہ یہ کیسے ہو گا تو وہ اس حوالے سے کچھ نہیں بتا سکے۔اس معاملے پر تحریک انصاف کے نائب صدر اسد عمر سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ عمران خان کو اسٹریٹجی کے معاملات کا علم نہیں۔برطانوی جریدے کے مطابق اسلام آباد کے قریب عمران خان کی قیام گاہ جیمز بونڈ کی فلموں کے ولن کی قیام گاہوں سے مشابہ ہے۔ان کا ماننا ہے کہ وہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ معروف آدمی ہیں۔ عمران خان نے خود بتایا کہ وہ بچپن میں خود کو بدصورت آدمی سمجھتے تھے لیکن زندگی میں حاصل ہونے والی کامیابی بدصورت آدمی کو بھی خوب صورت بنا دیتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عمران خان نے زمان پارک لاہور میں اپنے والد کا گھر مسمار کر دیا ہے۔ ان کے والد کی ان کی والدہ سے بات چیت بند تھی۔ عمران خان نے اپنے والد کو شوکت خانم اسپتال کے بورڈ سے بھی نکال دیا تھا۔ ان کے خاندان کے افراد کا کہنا ہے کہ عمران خان اور ان کے والد کے درمیان بات چیت بند تھی۔ جبکہ عمران خان نے خود بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ ان کے اپنے والد سے رسمی سے تعلقات تھے ۔ان کے والد 2008ء میں قضائے الٰہی سے انتقال کر گئے۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں