ایم کیو ایم کو ختم کرنے کا تاثر بے بنیاد ہے
khwaja izhar ul hassan finish mqm

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما اور سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن نے واضح کیا ہے کہ ان کی جماعت کی طرف سے متحدہ کو ختم کرنے کا کسی قسم کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

ڈان نیوز کے پروگرام 'نیوز آئی' میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ اظہار کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کو ختم کرنے کی بات پریس کانفرنس کے دوران پاک سرزمین پارٹی (پی ایس پی) کے سربراہ مصطفیٰ کمال نے کی تھی جو کہ وہ پہلے دن سے کہتے آرہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ 'فی الحال نہ تو ایم کیو ایم کو چھوڑنے کی کوئی بات ہوئی نہ ہی اس کو ختم کرنے کا کوئی فیصلہ کیا گیا جبکہ نہ ہی مستقبل میں ایسا ہوگا'۔ رکن سندھ اسمبلی کا کہنا تھا کہ کراچی کے مسائل کو حل کرنے اور انتخابات میں ووٹرز کو تقسیم ہونے سے روکنے کے لیے ایم کیو ایم اور پی ایس پی نے مذاکرات کے ذریعے ایک سیاسی اتحاد بنانے کا فیصلہ کیا، لیکن کوئی جماعت بھی کسی دوسری جماعت میں ضم نہیں ہوئی۔ خواجہ اظہار کا مزید کہنا تھا کہ 'ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ایک نام، ایک نشان اور ایک منشور کے ساتھ سیاست کریں گے اور اس وقت دو نام پہلے سے موجود ہیں اور کیونکہ سیاست میں کچھ بھی حتمی نہیں ہوتا، لہذا تیسرے نام کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا‘۔ انھوں نے کہا کہ ماضی میں بھی ایم کیو ایم کو دفن کرنے کی جو باتیں کی گئیں ان سے متحدہ پاکستان کے کارکنان کی دل آزاری ہوئی تھی، مگر گزشتہ روز کے مذاکرات میں یہ فیصلہ بھی ہوا کہ اب دونوں جماعتوں میں سے کوئی بھی کسی کے خلاف بات نہیں کرے گا۔ 'پریس کانفرنس سے صرف جمی برف پگھلی ہے' پروگرام میں موجود پاک سرزمین پارٹی کے رہنما رضا ہارون نے ایم کیو ایم پاکستان اور ان کی جماعت کے درمیان ہونے والی مشترکہ پریس کانفرنس کو صرف سیاست میں جمی برف کا پگھلنا قرار دیا اور کہا کہ جو فیصلے ہوئے ہیں ان پر اب مشاورت کی جائے گی۔ تاہم، انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایم کیو ایم کے نام سے پی ایس پی کو اب بھی اختلاف ہے اور ہم اسی لیے مشاورت میں اس پر بات کریں گے۔ رضا ہارون نے خواجہ اظہار الحسن کی بات پر کہا کہ 'یقیناً اس بات سے آج کی پریس کانفرنس میں ہونے والی باتوں کے حوالے سے ایک الجھن نظر آتی ہے لہٰذا آئندہ کے لائحہ عمل پر بات ہونا ابھی باقی ہے‘۔ انھوں نے کہا کہ 'اس وقت اتحادی پارٹی کے نام کے حوالے سے میڈیا پر بیٹھ کر بات کرنے سے گریز کرنا ہوگا تاہم ہمیں امید ہے کہ ہم ایک نئے نام کے لیے متحدہ پاکستان کی قیادت کو قائل کرلیں گے'۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں