ہم تو روز لاہور سے آتے ہیں اور سحری کرکے عدالت کے لیے روانہ ہوتے ہیں، کیا اب ۔ ۔ ۔؟
khuwaja haris lahore high court nawaz sharif

احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس کی سماعت شروع ہوگئی تاہم سپریم کورٹ کے فیصلے کی کاپی منگوانے کے لیے سماعت میں کچھ دیر کیلئے وقفہ کیاگیا

 دوران سماعت نوازشریف سے عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کو دوسرا وکیل رکھنا ہے یا خواجہ حارث کو ہی کہا ہے؟ساتھ ہی جج نے کہا کہ 'ابھی تک خواجہ حارث کی کیس سے دستبرداری کی درخواست منظور نہیں کی گئی'۔  نواز شریف نے عدالت کو آگاہ کیا کہ 'یہ اتنا آسان فیصلہ نہیں، ایک وکیل نے کیس پر 9 ماہ محنت کی ہے،خواجہ حارث نے سپریم کورٹ میں کہہ دیا تھا کہ وہ ہفتہ، اتوار کو کام نہیں کریں گے، ہم تو روز لاہور سے آتے ہیں اور سحری کرکے عدالت کے لیے روانہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اب کیا24/7 کیس چلانا ہے؟ کیا ایسی کوئی اور مثال ہے؟اس کیس میں 100 کے قریب پیشیاں ہو چکی ہیں۔احتساب عدالت کے معززجج نے نوازشریف کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہیں نہیں کہا گیا کہ ہفتہ اور اتوار کو بھی سماعت لازم ہے ، عدالتی فیصلے کی کاپی منگوالیتے ہیں اور سماعت کچھ دیر کیلئے  ملتوی کردی۔سابق وزیراعظم نوازشریف آج اپنے وکیل کے بغیر احتساب عدالت میں پیش ہوئے تھے جبکہ ان کی صاحبزادی مریم نواز بھی عدالت میں موجود ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز احتساب عدالت میں العزیزیہ ریفرنس کی سماعت کے دوران خواجہ حارث نے نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنسز سے علیحدہ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے عدالت سے اپنا وکالت نامہ واپس لینے کی درخواست کی تھی۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں