ہم کسی کیلئے ضد رکھنے والے نہیں،ہم چاہتے ہیں فیصلہ دیں تو کوئی کہتا پھرے کہ فیصلہ کیوں دیا،چیف جسٹس ثاقب نثار
justice saqib decision supreme court

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں صاف پانی اور نکاسی سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم کسی کےلئے ضد رکھنے والے نہیں،ہم نہیں چاہتے کہ فیصلہ دیں تو کوئی کہتا پھرے کہ فیصلہ کیوں دیا

ہم سوچ سمجھ کراور سب کو سن کر فیصلہ دینگے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں ہمارے بچوں کو پینے کا صاف پانی ملے،چیف سیکرٹری کچھ نہیں کرسکتے تو وزیراعلیٰ کو طلب کرلیتے ہیں،وزیراعلیٰ کے ساتھ ان کے کرتا دھرتا بھی آجائیں،لاڑکانہ حکمراں جماعت کا گڑھ ہے88فیصد پانی گندہ فراہم کیا جارہا ہے،منتخب نمایندے عوام کےلئے کیا کر رہے ہیں سمجھ سے بالا ہے۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں صاف پانی اور نکاسی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی،دوران سماعت درخواست گزار شہاب اوستونے موقف اختیار کیا کہ شہریوں کو بنافلٹر کئے پینے کا پانی فراہم کیاجارہا ہے،کراچی80فیصد،حیدرآباد 85 لاڑکانہ 88فیصد، شکارپور 78فیصد پینے کا پانی آلودہ ہے،سندھ کے دریامیں ہسپتالوں ،صنعتوں اور میونسپلٹی کا ویسٹ ڈالا جارہا ہے،سندھ کے 29ڈسٹرکٹ میں لوگ آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں ،سندھ میں80لاکھ شہری ہیپاٹائٹس کے مرض میں مبتلا ہیں۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ لوگوں کی زندگیوں کا معاملہ ہے نظر انداز نہیں کر سکتے،سپریم کورٹ نے وزیر اعلیٰ سندھ کو کل طلب کر لیااور سابق سٹی ناظم مصطفی کمال کو بھی سمن جاری بھی کر دیئے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ آئینی ادارہ ہے بنیادی انسانی حقوق سے متعلق کیس سن رہے ہیں،وزیر اعلیٰ یہاں موجود ہونگے تو مسائل کی حل کی جانب بڑھیں گے،ایڈووکیٹ جنرل صاحب کیوں پریشان ہیں ہم تو وزیر اعلیٰ سے ملنا چاہتے ہیں۔اس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ کل مصروف ہیں، وزیر اعلیٰ سندھ بدھ کو پیش ہوں۔اس پر عدالت نے فیصلے میں ترمیم کردی،سابق ناظم مصطفی کمال کو 5دسمبر کےلئے نوٹس جاری کردیا اوروزیر اعلیٰ سندھ کو6دسمبر کو طلب کرلیا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ زمین کب دی اور کسے دی گئی،یہ بھی بتائیں یہ کون سے بے گھر لوگ تھے؟،انہوں نے کہا کہ زمین پر دو بڑی نعمتیں ہوا اور پانی ہیں جس کے بغیر زندگی نہیں،ریاست کا فرض ہے کہ وہ اپنی ذمے داری ادا کرے،ہم نے ہوا اور پانی جیسی نعمتوں میں خلل پیدا کر دیا ،انہوں نے کہا کہ سندھ ہو یا پنجاب فیکٹریوں کی آلودگی سے زندگی متاثر ہو رہی ہے،ہوا کی آلودگی کے باعث کینسر جیسی بیماریاں جنم لے رہی ہیں،حکومت ذمے داری میں ناکام ہو تو عدلیہ کو مداخلت کرنا پڑتی ہے،پانی اور ہوا کی آلودگی پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اس معاملہ پر اعلیٰ سے اعلیٰ افسر کو بلانا پڑا تو بلائیں گے،مجھے یہ بتائیں سندھ کے منصوبوں پر کتنے فنڈز جاری ہوئے،ذمے داری کسی سیکرٹری پر نہیں چیف ایگزیکٹو پر عائد کریں گے،درخواست گزار نے عدالت سے کہا کہ آپ صرف وہ وڈیودیکھ لیں جو کمیشن نے بنائی۔چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ کیوں نہ پیمرا کو حکم دیں کہ وہ ہر ٹی وی چینل پر وہ وڈیونشر کرائے،ہم بھی بغیر فلٹر کیے پانی پی کر بڑے ہوئے لیکن اس وقت کاپانی مفید تھا،جن کاکام اسے درست کرنا ہے وہ کیوں نہیں دیکھتے؟،انہوں نے کہا کہ جو عوام کے پاس جاکر کہتے ہیں ہم یہ کردینگے وہ کردینگے انہیں یہ نظر نہیں آتا؟،یہ لوگ صرف دعوے کرتے ہیں عوام کو پینے کا صاف پانی نہیں دے سکتے،عوام کے مسائل حل کرنے والا بھی کوئی ہے یا نہیں ۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں