سپریم جوڈیشل کونسل میں سینئر جج جسٹس گلزار احمد کیخلاف ریفرنس دائر
justice gulzar cancer supreme court

 سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس گلزار احمد کیخلا ف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کردیا  گیا  

جمعرات کو کینسر کے مریض شہری اسرار عالم شیخ کیجانب سے دائر ریفرنس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جسٹس گلزار احمد نے بطور جج ہائی کورٹ درخواست گزار کے ایک کیس میں ڈی ایچ اے والوں کو اضافی ریلیف دیا ،میرا کیس ہائی کورٹ میں زیر سماعت تھا تو جسٹس گلزار فریق مخالف کے گالف کلب میں کھیلنے جاتے تھے ،مجھے شک ہے کہ گالف کھیلتے وقت جسٹس گلزار کو میرے خلاف بھڑکایا گیا ہو گا ، شہری نے ریفرنس میں کہا ہے کہ ڈی ایچ نے مجھے 2011میں ادھورا فلیٹ الاٹ کیا جس کیخلاف ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ، کیس کی سماعت کرنے والے بنچ میں جسٹس گلزار بھی شامل تھے ،کیس میں مجھے سنے بغیر فیصلہ دیا جو انصاف کے اصولوں کیخلاف ورزی ہے ، ریفرنس میں جوڈیشل کونسل سے استدعا کی گئی ہے کہ انصاف کی راہ میں رکاوٹ بننے اور حلف کی خلاف ورزی کی ہے جس پر جسٹس گلزار احمد کیخلاف آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی جائے ، جسٹس گلزار احمد نے درخواست گزار کو انصاف سے محروم کرتے ہوئے مخالف فریق کو اضافی ریلیف دیا ہے جو عدالتی بدنامی کا باعث بنا ہے ۔ یا د رہے کہ جسٹس گلزار احمد سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر جج ہیں اور جسٹس آصف سعید کھوسہ کے بعد مستقبل میں کئی سال تک چیف جسٹس کے عہدے پر رہیں گے ، اس کے علاوہ جسٹس گلزار احمد خان پانامہ لیکس کے مقدمے کی سماعت کرنے والے بنچ کا بھی حصہ تھے اور انہوں نے جسٹس آصف سعید کھوسہ کے ساتھ اختلافی نوٹ لکھا کہ وزیراعظم نواز شریف صادق اورامین نہیں ۔ 

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں