جان اچکزئی نے جے یو آئی چھوڑدی
juif jan muhammad khan achakzai

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سابق مرکزی ترجمان اور جماعت کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے قریبی ساتھی جان اچکزئی نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان کردیا.

جان اچکزئی نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ جے یو آئی (ف) میں ان کا اچھا وقت گزرا اور انھوں نے مولانا فضل الرحمان کو ایک جہاندیدہ اور محب وطن سیاست دان پایا جبکہ انھیں مولانا کی بھرپور حمایت اور سر پرستی بھی حاصل رہی. تاہم جان اچکزئی کا کہنا تھا کہ پارٹی کے دوسرے رہنما ان کے موقف کو سمجھنے سے قاصر نظر آئے اور بعض رہنماؤں نے اُن کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ شروع کردیا تھا، جس کا انہیں دلی دکھ ہوا، خصوصاً اس بات سے کہ اُن کی ذات کو حدفِ تنقید بنانے سے پارٹی کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ جان اچکزئی نے کہا کہ انہوں نے ہر فورم پر جے یو آئی (ف) کا موقف اپنی انتہائی صلاحیت کے مطابق پیش کیا اور تقریباً تن تنہا ہی ہر سیاسی جماعت کی جانب سے پارٹی پر ہونے والی ہر تنقید کا بھرپور جواب دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بعض پارٹی رہنماؤں کی جانب سے منفی اور بلاجواز مہم کے حوالے سے انھوں نے آواز اٹھائی تاہم یہ سلسلہ رک نہیں سکا اور ان حالات میں کہ جب اپنی ہی پارٹی کے رہنما ان کا ساتھ نہیں دے رہے، ان کے لیے یہ بہت مشکل ہے کہ وہ پارٹی کے ترجمان کے طور پر میڈیا یا کسی بھی دوسرے فورم پر اپنا کردار ادا کرسکیں. جان اچکزئی کا کہنا تھا کہ وہ کافی سوچ بچار کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جے یو آئی (ف) کے ان رہنماؤں کے ساتھ چلنا تقریباً نا ممکن ہو گیا ہے۔ جان اچکزئی کے مطابق وہ پارٹی کے کسی رہنما کے لیے کوئی مشکل پیدا نہیں کرنا چاہتے، لہذا دُکھی دل کے ساتھ علیحدگی اختیار کررہے ہیں. خیال رہے کہ مولانا فضل الرحمن نے جان اچکزئی کو اپریل 2013 میں اپنا میڈیا کو آڈینیٹر مقرر کیا تھا. بعد ازاں عمران خان کے حوالے سے نامناسب بیان پر ان کو عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا.

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں