پرویز مشرف کے والد کو سرکاری نوکری سے کس وجہ سے برطرف کیا گیا؟ وہ بات جو لوگوں کو معلوم نہیں ، جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے
job father pervez musharraf

سابق وزیراعظم نوازشریف کا نام پاناما کیس میں لیے جانے اور پھر ان کی نااہلی کے بعد مختلف محکموں میں چلنے والے مقدمات کا ہرطرف چرچا ہے

لیکن یہ بات بہت ہی کم لوگوں کو معلوم ہے کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے والد کو بھی نوکری سے برطرف کیا گیا تھا اور ان کی پنشن و دیگر مراعات بھی روک لی گئی تھیں لیکن اس کی بنیاد ممکنہ طورپر ہونیوالی ایک غلط فہمی تھی ۔ ذرائع کے مطابق پرویز مشرف کے والد سید مشرف الدین وزارت خارجہ میں ملازم تھے اور وزارت نے غلط فہمی کی بنیاد پر انہیں نوکری سے فارغ کرکے گھر بھیج دیا تھا جس کے بعد ان کی پنشن بھی روک لی گئی ، سید مشرف الدین سمجھتے تھے کہ وہ بے قصور ہیں اور ان کیساتھ زیادتی کی گئی لہٰذا انہوں نے اپنے ہی محکمے کے خلاف سروسز ٹربیونل میں مقدمہ دائر کردیا، مہینے اور پھر سال بیتتے چلے گئے لیکن پرویزمشرف کے والد کو انصاف نہ مل سکا حتیٰ کہ پرویزمشرف نے مسند اقتدار سنبھال لی ۔پرویز مشرف جب صدر پاکستان بنے وزارت خارجہ نے خود ہی اس مقدمے کونمٹادیا اور نہ صرف معافی مانگی بلکہ فوجی صدر کے والد سید مشرف الدین کے تمام واجبات بھی ان کے گھر بھجوادیئے تھے.

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں