پنجاب کا وہ علاقہ جہاں ہسپتال میں انسانوں اور جانوروں کا ایک ساتھ علاج ہوتاہے
humans treatment hospital animals

تحصیل منچن آباد کے نواحی قصبہ میکلوڈ گنج شہر کے مین بازار میں نجی میڈیکل سٹور بنایا گیا جہاں انسانوں اور جانوروں کی ایک ہی علاج گاہ بنائی گئی ہے اور میڈیکل سٹور کے عقبی حصہ میں تین کمروں کا وارڈ بناکر ہسپتال کی شکل دیدی گئی

جہاں آنے والے مختلف بیماریوں کے شکار مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے اور اگر تشویشناک حالت میں کوئی مریض آجائے تو سرجیکل آپریشن بھی کر دیا جاتا ہے۔مذکورہ میڈیکل سٹورکم ہسپتال کھلے عام ممنوعہ انڈین ادویات، نشہ آور ٹیکے ، اور دیگر ادویات فروخت ہورہی ہیں، ایک شخص نے کہا کہ آنکھ میں معمولی خارش ہونے پر اسی سٹورسے دوا لے کر استعمال کی تو آنکھ ضائع ہو گئی ۔رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیاگیاکہ میڈیکل سٹور پر جانوروں کی بیماریوں سے متعلق بھی ادویات فروخت کی جاتی ہیں ، سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ انسانوں کو نقصان ہونے کی طرح اخبار نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس سٹور سے خریدی گئی دوا کی وجہ سے ایک شخص کی بھینس نے بھی تڑپ تڑپ کرجان دے دی اور مالک کے شورمچانے پر معززین علاقہ نے معاملہ رفع دفع کرادیاجبکہ سٹور کے باہر لگے بورڈ پر واضح طورپر انگریزی ، دیسی اور جانوروں کی ادویات کی فراہمی کے بارے میں درج ہے ۔محکمہ صحت کے سی ای او ہیلتھ بہاولنگر ڈاکٹر عبدالرزاق نے متعلقہ میڈیکل سٹور کے اندر نجی ہسپتال سے متعلق مکمل لاعلمی کا اظہار کیا ۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں