عام انتخابات سے قبل ہی حنا ربانی کھر رنگے ہاتھوں پکڑی گئیں، اور کون کون شامل ہے؟
hina rabbani khar ppp elections

آئندہ عام انتحابات میں شرکت کے خواہش مندوں میں سے 100 انتخابی امیدواران کو بینک نادہندہ( بینک ڈیفالٹر) قراردیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اسکروٹنی کے پہلے مرحلے میں اسٹیٹ بینک نے جن امیدواروں کو ’بینک نادہندہ ‘ قراردیا ہے ان میں ملک کی مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق این اے 143، 144 اور پی پی 186 سے آئندہ عام انتخاب میں حصہ لینے کے خواہش مند پی پی پی پنجاب کے سابق صدر منظوراحمد وٹو کا نام بینک نادہندہ افراد کی فہرست میں شامل ہے۔ میاں منظوراحمد وٹو سابق وزیراعلیٰ پنجاب بھی ہیں۔ذرائع کے مطابق اب تک کی جا چکنے والی اسکروٹنی میں خالد کامران، سابق وزیرخارجہ حنا ربانی کھر، طاہرہ امتیاز اورعالیہ آفتاب بینکوں کے نادہندہ نکلے ہیں۔پی پی 193 سے احمد شاہ کھگا اور غلام احمد شاہ، این اے 124 سے عاصم ارشاد، این اے 116 سے امیر احمد سیال، این اے 30 سے خالد مسعود، این اے 224 سے عبدالستار بچانی اورذوالفقار بچانی بینک کے نادہندہ پائے گئے ہیں۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق این اے 256 سے امیر ولی الدین چشتی، این اے 257 سے ایاز خان اور این اے 258 سے چنگیز خان کے نام بھی بینک نادہندگان کی فہرست میں شامل ہیں۔اسکروٹنی کا عمل 12 جون تک جاری رہے گا۔انتخابی کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف اپیلیں 22 جون تک دائر کی جا سکیں گی۔طریقہ کار کے تحت ان اپیلوں کو 27 جون تک نمٹایا جائے گا۔امیدواروں کی نظرثانی شدہ ابتدائی فہرست 28 جون کو آویزاں کی جائے گی۔امیدواروں کو یہ اختیارحاصل ہے کہ وہ 29 جون تک اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے سکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن انتخابی امیدواروں کی حتمی فہرست 30 جون کو جاری کرے گا۔ ملک بھر میں عام انتخابات 25 جولائی کو منعقد ہوں گے۔الیکشن کمیشن آف پاکستان میں کاغذات نامزدگی کی اسکروٹنی کے لیے باقاعدہ سیل قائم کیے گئے ہیں۔ قائم کردہ سیل میں چاروں صوبوں کے لیے الگ الگ ڈیسکس بنائے گئے ہیں۔اسکروٹنی کے عمل کو صاف و شفاف بنانے کے لیے ہرسیل میں ایف آئی اے، نادرا، ایف بی آر اوراسٹیٹ بینک کےنمائندے تعینات کیے گئے ہیں۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں