میرے ساتھ ڈکیتی ہوئی تو عمر ورک نے کہا نقصان پورا کردیتے ہیں ،سپریم کورٹ کے جج کا انکشاف
facts judge pakistani police lahore supreme court

سپریم کورٹ نے مغلپورہ کی کمسن بچی سے بداخلاقی پر ازخودنوٹس کیس میں ملزم کی عدم گرفتاری پر قرار دیا ہے کہ لاہور پولیس تسلیم کر لے کہ اس کا تفتیشی نظام ناکام ہو چکا ہے، عدالت نے ملزم کہ عدم گرفتاری پر ایس پی سی آئی اے عمر ورک اور ایس ایس پی انویسٹی گیشن رانا ایاز سلیم پر برہمی کا اظہار کیا۔

سپریم کورٹ لاہوررجسٹری میں مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے مغلپورہ کی کمسن بچی سے بداخلاقی پر ازخودنوٹس کیس کی سماعت کی، ایس ایس پی انویسٹی گیشن رانا ایاز نے بنچ کو بتایا کہ 317مشکوک افراد کو شامل تفتیش کیا گیا مگر ابھی تک اصل ملزم نہیں پکڑا جا سکا، ایس پی سی آئی عمر ورک نے بنچ سے استدعا کی ملزم کی گرفتاری کے لئے مزید مہلت دی جائے، بنچ نے ملزم کی عدم گرفتاری پر دونوں سینئر پولیس افسروں کی سرزنش کرتے ہوئے ملزم کی عدم گرفتاری پر برہمی کا اظہار کیا.

مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ لاہور پولیس تسلیم کر لے کہ اس کا تفتیشی نظام ناکام ہو چکا ہے، پولیس ہر مرتبہ مہلت مانگنے آ جاتی ہے مگر ملزم نہیں پکڑ رہی، فاضل جج نے کہا کہ ان کے ساتھ بھی ڈکیتی کی واردات ہوئی تو ایس پی سی آئی عمر ورک نے مجھ سے کہا کہ وہ میرا نقصان پورا کر دیتے ہیں، کیا صرف نقصان پورا کرنا ہی پولیس کا کام ہے، عمر ورک نے کہا کہ پولیس نہیں چاہتی کہ کسی بے گناہ کو اس مقدمے میں گرفتار کر کے جیل بھیج دیا جائے جس پر بنچ نے کہا کہ عدالت سمیت کوئی بھی یہ نہیں چاہے گا، بنچ نے پولیس کو ہدایت کی اس 3 ماہ میں اس مقدمے کی پیشرفت رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے اور 3 ماہ سے قبل کوئی اہم پیشرفت ہو تو بھی عدالت کو آگاہ کیا جائے۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں