جے آئی ٹی تحلیل‘ ارکان آج دوبارہ اپنے دفاتر حاضری دینگے
end jit report supreme court

جے آئی ٹی ارکان تحقیقاتی رپورٹ لیکر انتہائی سخت سکیورٹی میں سپریم کورٹ پہنچے،جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء تحقیقاتی رپورٹ اور شواہد کے دو سربمہرکارٹن اپنی گاڑی کی ڈگی میں ڈال کر لائے جو عدالت عظمیٰ کے 3 رکنی بینچ کو جمع کروائے گئے۔

دریں اثناء جے آئی ٹی اپنے کام کی تکمیل کے بعد 63 ویں دن تحلیل ہوگئی۔ ارکان آج سے دوبارہ اپنے دفاتر میں حاضری دینگے۔ جے آئی ٹی ارکان عدالت میں رپورٹ جمع کرانے کے بعد واپس جوڈیشل اکیڈمی پہنچے جہاں انہوں نے 3 گھنٹے گزارے اور غیر رسمی اجلاس بھی منعقد کیا۔ تمام ارکان آپس میں گپ شپ کرتے رہے اور مقررہ تاریخ کے اندر کام مکمل کرنے پر جے آئی ٹی ارکان نے ایکدوسرے کو مبارکباد بھی دی۔ آئندہ ایک ہفتے تک جوڈیشل اکیڈمی سے کیس کا ریکارڈ، دستاویزات اور دیگر اشیا منتقل کردی جائیں گی۔ پانامہ دستاویزات کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تفتیشی ٹیم کے دستاویزی شواہد کارٹن کے دوڈبوں میں بند تھیں ، ڈبوں پر سرخ مارکر سے ،،انویسٹی گیشن رپورٹ جے آئی ٹی پانامہ کیس ،، کے الفاظ درج ہیں سپریم کورٹ کے احاطے سے گاڑیوں میں اتار کر یہ ڈبے جب ٹرالیوں میں رکھے گئے تو سب کی توجہ کا مرکز بن گئے ، ان ڈبوں پر سرخ مارکر سے EVIDENCE تحریر ہے اور لال ٹیپ سے ان کو بند کیا گیا ہے ، ایک بجکر20 منٹ پر گاڑیوں میں غیر معمولی سکیورٹی کیساتھ جے آئی ٹی کے اراکین تحقیقاتی رپورٹس لیکر سپریم کورٹ پہنچے ،آناً فاناً سپریم کورٹ کے گیٹ کھل گئے اور یہ گاڑیاں سپریم کورٹ کے اندر چلی گئیں ۔ علاوہ ازیںسپریم کورٹ کے باہر کی صورتحال سے اعلیٰ حکام کو آگاہ کرنے کے لئے بعض اہم سرکاری اداروں کے اہلکار بھی شاہراہ دستور پر موجود تھے اور اعلیٰ حکام کو سپریم کورٹ کے باہر کی صورتحال سے باقاعدگی سے آگاہ کرتے رہے ۔ ہر دس پندرہ منٹ بعد ان اہلکاروں کے موبائل فون بجتے اور حکام ان سے خود بھی صورتحال سے آگاہی لیتے رہے ۔ شاہراہ دستور سے پیر کو سپریم کورٹ میں پانامہ کیس کے بارے میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ پیش ہونے کے موقع پر سیاسی کارکنان غائب تھے ، خلاف توقع گزشتہ روز شاہراہ دستور پر کوئی نعرہ سننے کو ملا ،کوئی بینر اور جھنڈا نظر آیا ،نہ کوئی پرجوش متوالا اور ٹائیگر دکھائی دیا ۔ ٹی وی کیمروں کی بھرمار تھی ، تین مقامات پر پچاسیوں کی تعداد میںکیمرے لمحہ بہ لمحہ کی کوریج کے لئے لگے ہوئے تھے ، ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی ایک بڑی تعداد بھی ان تینوں مقامات پر بھی موجود تھی ۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں