عمران خان جلدی الیکشن کیوں کروانا چاہتے ہیں؟ رﺅوف کلاسرا نے عمران خان کو آڑے ہاتھوں لے لیا
elections rauf klasra imran khan

معروف صحافی رﺅوف کلاسرا نے کہا کہ عمران خان جس سسٹم کے خلاف کھڑے ہوئے تھے اب خود اس کا شکار ہو گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جو ایم کیو ایم ،پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن پر الزامات لگائے جاتے تھے اب پی ٹی آئی بھی انہی الزامات کی زد میں آ جائے گی۔ میری پی ٹی آئی کے ایک بندے سے ملاقات ہوئی جس نے مجھے کہا کہ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ الیکشن جلدی ہو جائیں۔اور جب میں نے وجہ دریافت کی تو ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ کے تیس پینتیس کے قریب ایم این اے ہیں جنہیں ہم نے اپنی پارٹی میں لینا ہے ، ایک بھگدڑ مچے گی اور ملک میں قبل از وقت انتخابات ہوں گے اور اسی دوران مسلم لیگ ن کے 30سے 35ایم این ایز کو ہم اپنی پارٹی میں شامل کر لیں گے ۔ رﺅوف کلاسرا نے کہاکہ تحریک انصاف تیار ہو چکی ہے کہ کب ملک میں بھگدڑ مچے اور کب یہ لوگ مسلم لیگ ن کے رہنماﺅں پر حملہ آور ہوں۔اس سے فائدہ کیا ہوا؟ اگر پی ٹی آئی اور عمران خان نے ہارے ہوئے لوگوں کو ہی پارٹی میں لانا ہے تو ان کے نوجوانوں کو چاہئیں کہ وہ مسلم لیگ ن کی قیادت کو گالیاں دینا بند کردیں کیونکہ یہی لوگ پی ٹی آئی میں شامل ہو جائیں گے جنہوں نے نواز شریف کو پارٹی کا صدر بنایا تھا۔ پی ٹی آئی کا منصوبہ یہ ہے کہ ملک میں بھگدڑ مچے گی اور قبل از وقت الیکشن ہوں گے، مریم نواز حالات سنبھال نہیں پائیں گی اور شہباز شریف پر ہم حدیبیہ کھلوا لیں گے۔مسلم لیگ ن کا ایک باغی گروپ پہلے ہی ان سے رابطے میں ہیں ،تما م نوجوانوں کو چاہئیے کہ وہ نواز شریف اور مریم نواز اور جن جن افراد کو انہوں نے گالیاں دی ہیں ان سب سے معافی مانگ لیں کیونکہ ان کا اپنا لیڈر تیس سے پینتیس ایم این ایزز پر آنکھ رکھ کے بیٹھا ہے۔ انہوں نے عمران خان کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ہم عمران خان کو اس لیے سپورٹ کر رہے تھے کہ ہمیں لگا کہ وہ کچھ تبدیلی لائیں گے۔ لیکن ان کی اخلاقیات اور تبدیلی ایک بھینس کی طرح پانی میں چلی گئی ہے۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں