امریکہ کے امداد روکنے کے بعد پاکستان نے بھی زبردست قدم اُٹھالیا
donald trump america pakistan

وزیر دفاع خرم دستگیر کا کہنا ہے کہ پاکستان نے امریکا کے ساتھ انٹیلی جنس اور فوجی تعاون معطل کر دیا ہے۔

اسلام آباد میں ادارہ اسٹریٹجک اسٹڈیز میں تقریب سے خطاب کے دوران خرم دستگیر نے کہا کہ ’امریکا کو تاحال فضائی اور زمینی راہداری سہولیات فراہم کر رہے ہیں اور ان کی بندش کا آپشن موزوں وقت پر استعمال کریں گے۔‘افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیر دفاع نےکہا کہ کھربوں ڈالرز خرچ کرکے بھی امریکا افغانستان میں جنگ ہار رہا ہے، امریکی وزیر دفاع نے خود تسلیم کیا کہ امریکا، افغانستان میں کامیاب نہیں ہو پارہا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو قربانی کا بکرا بنایا جارہا ہے، ہم نے ہزاروں قربانیاں دی اور دے رہے ہیں، پاکستان اپنے تعاون کی قیمت مقرر نہیں کرنا چاہتا مگر قربانیوں کا اعتراف چاہتا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی واضح کرنا چاہتا ہے کہ افغان جنگ پاکستان کی سرزمین پر نہیں لڑنے دیں گے۔خرم دستگیر نے کہا کہ کھربوں ڈالرز اور لاکھوں فوجیوں کے باوجود بھی امریکا صرف 40 فیصد افغانستان پر کنٹرول کر سکا اور افغان سرحد پر باڑ لگانے میں مدد کی بجائے اب الزام تراشیاں کر رہا ہے، جبکہ پاک۔ امریکا دوطرفہ مسائل سے افغان مسئلہ پس پردہ چلا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ امریکا کو زمینی و فضائی راہداری، فوجی اڈے دینا مشرف دور کا سیاہ باب ہے، اب پاکستان ہی امریکا کے لیے واحد راہداری باقی بچتی ہے، جبکہ پاکستان کے پاس سلالہ سانحے کے بعد زمینی راہداری بند کرنے کی مثال موجود ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی، توانائی و معاشی بحران کے اندھیرے سے نکل چکا، جبکہ پاکستان کا دفاع انتہائی مستحکم اور مضبوط ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان اور چین پارٹنر اور اتحادی ہیں، جبکہ خطے میں ایران، چین اور روس کی اہمیت بھی اتنی ہے جتنی امریکا کی۔بھارت سے متعلق انہوں نے کہا کہ پاکستان، بھارت سے مسائل کا حل چاہتا ہے، تاہم بھارت کا لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور ورکنگ باؤنڈری پر رویہ تشویشناک ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے پاکستان کے خلاف کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن کا اعتراف اس وقت کیا گیا جب پاکستان سنجیدگی سے تنازعات کے حل کے لیے کوشاں تھا۔یاد رہے کہ دو روز قبل وزیر خارجہ خواجہ آصف نے امریکی دھمکیوں اور امداد کی بندش کے اعلان کے بعد پاکستان اور امریکا کے درمیان اتحاد نہ ہونے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں خواجہ آصف نے کہا کہ ہمارا امریکا کے ساتھ کوئی اتحاد نہیں ہے، ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پاکستان کی عسکری امداد روکنے کا حوالے دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اتحادیوں کا ایسا طریقہ کار نہیں ہوتا جو امریکا نے اپنایا ہے۔ٹرمپ انتظامیہ نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان کی جانب سے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کے وعدے کو پورا کرنے تک پاکستان کی تمام سیکیورٹی امداد روک دی گئی ہے۔امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان ہیتھر نوریٹ نے امداد کی معطلی کے اعلان کے موقع پر کہا تھا کہ پاکستان کی امداد تب تک معطل رہی گی جب تک پاکستان دہشت گرد گروپوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی نہیں کرتا۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں