پاناما لیکس؛ تحریک انصاف کی پیش کردہ دستاویزات کا کیس سے تعلق ہی نہیں، سپریم کورٹ
documents panama leaks pti supreme court

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی نے پاناما لیکس سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ سپریم کورٹ تفتیشی ادارہ نہیں ہے اور نا ہی بدعنوانی یا کرپشن مقدمات کی سماعت کرنا سپریم کورٹ کا کام ہے۔ 

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی كی سربراہی میں جسٹس آصف سعید كھوسہ ،جسٹس امیر ہانی مسلم، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الحسن پر مشتمل لارجر بینچ نے پاناما لیکس کیس کی سماعت كی، وزيراعظم كے بچوں حسین، حسن اور مریم نواز نے اپنا وكيل تبدل كرليا اور ان کی جانب سے سلمان بٹ كی جگہ اكرم شيخ عدالت میں پیش ہوئے ۔ وزیر اعظم اور انکے بچوں نے دستاویزات سپریم کورٹ میں جمع کرا دیں ، 397 صفحات سے زائد پر مشتمل تفصیلات میں وزیراعظم کے ٹیکس ادائیگی ،زمین اور فیکٹریوں سے متعلق تفصیلات شامل ہیں۔ ان میں زمینوں کے انتقال نامے بھی دستاویز میں شامل ہیں ۔ سماعت کے آغاز پر درخواست گزار طارق اسد ایڈووکیٹ نے سپریم کورٹ کی گزشتہ سماعت کا حکم پڑھا۔ طارق اسد ایڈووکیٹ نے عدالت سے استدعا کی کہ آف شور کمپنیوں کے مالک تمام ارکان پارلیمنٹ کے خلاف تحقیقات کی جائے، یہ بہت اہم کیس ہے ، مقدمہ تیزرفتاری سے چلانے میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوں گے۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایسا لگتا ہے آپ درخواست گزار نہیں نواز شریف کے وکیل ہیں، آپ کے جواب سے لگتا ہے کہ آپ مقدمے کا فیصلہ نہیں چاہتے، یہ ہمارا کام ہے ، انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے، اگر 800 افراد کی تحقیقات شروع کی تو 20 سال لگ جائیں گے، پاناما لیکس پر اتنی درخواستیں آرہی ہیں شاید الگ سے سیل کھولنا پڑے، ایک درخواست میں 1947  سے احتساب کی استدعا کی گئی ہے، 700 صفحات ایک طرف سے جب کہ دوسری جانب سے 1600 صفحات جمع کرائے گئے ہیں۔ ہم کوئی کمپیوٹر تو نہیں ایک منٹ میں صفحات کو اسکین کرلیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نیب اور دیگر اداروں کی ناکامی کاملبہ ہم پر نہ ڈالیں ، ہم بار بار کہہ رہے ہیں سپریم کورٹ تفتیشی ادارہ نہیں ہے ، بدعنوانی یا کرپشن مقدمات کی سماعت کرنا سپریم کورٹ کا کام نہیں، دستاویزات آ گئی ہیں، اگلا مرحلہ کمیشن کی تشکیل ہے، عمران خان کی درخواست چار فلیٹس تک محدود ہے اس لیے پہلے سنیں گے۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں