کیس کون جیتا؟ عدالت عظمیٰ نے فیصلہ سنا دیا
  • 0
  • 0

http://tuition.com.pk
decision supreme court

تنازع حل: عائشہ باوانی کالج 2019 تک سندھ حکومت کے سپرد

سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکومتِ سندھ اور عائشہ باوانی ٹرسٹ کے درمیان کافی عرصے سے جاری قانونی تنازع کو حل کرواتے ہوئے عائشہ باوانی کالج کو 2019 تک سندھ حکومت کے سپرد کردیا۔جسٹس عظمت سعید شیخ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے مذکورہ کیس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عائشہ باوانی کالج 2019 تک سندھ حکومت کے پاس رہے گا تاہم اس دوران حکومتی انتظامیہ کالج امور میں مداخلت نہیں کرے گی اور نہ ہی نئے سیشن کے لیے داخلے لیے جائیں گے۔عدالتی حکم کے مطابق آئندہ برس 31 مئی تک کالج کی عمارت کے 17 کمروں میں سے تین کمرے ٹرسٹ کے حوالے کر دیے جائیں گے جبکہ مئی 2019 کے بعد عائشہ باوانی کالج کو مکمل طور پر ٹرسٹ کے سپرد کردیا جائے گا۔سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد سندھ حکومت نے عائشہ باوانی ٹرسٹ کو 85 لاکھ روپے کا چیک دے دیا۔سماعت کے دوران جسٹس عظمت سعید نے ایڈشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کو عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔انہوں نے ایڈیشنل جنرل ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو باور کرایا کہ فیصلے کی خلاف ورزی پر توہین عدالت کی کاروائی کی جاسکتی ہے۔یاد رہے کہ عائشہ باوانی ٹرسٹ اور محکمہ تعلیم کے درمیان جاری تنازع کے بعد گذشتہ ماہ 15 ستمبر کو عائشہ باوانی کالج کو سیل کرنے کی رپورٹس سامنے آئی تھیں تاہم اگلے ہی روز (16 ستمبر کو) سندھ ہائیکورٹ نے کالج سیل کرنے کے فیصلے پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے اسے کھولنے کی ہدایات جاری کردی تھیں۔پیر (18 ستمبر) کو محکمہ تعلیم کی ہدایت پر جب انتظامیہ اور طالبعلم کالج پہنچے تو وہ بدستور بند تھا جس کے بعد طلبہ نے احتجاج کرتے ہوئے شارع فیصل کو بند کرنے کی کوشش کی۔تاہم سندھ ہائیکورٹ نے 21 ستمبر کو عائشہ باوانی کالج کو فوری طور پر کھولنے اور 22 ستمبر سے کالج میں تعلیمی سرگرمیوں کو بحال کرنے کا حکم دے دیا تھا۔

 

 

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں