وفاقی حکومت کا ملک بھر میں ’’نظام صلوۃ ‘‘ متعارف کرانے کا فیصلہ
decision prayer federal government

وفاقی حکومت نے ملک بھر میں تمام فرقوں کیلئے ایک ہی وقت میں نماز کی ادائیگی کا نظام متعارف کرانے کا ایک بار پھر فیصلہ کر لیا ہے۔

وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف کا کہنا ہے کہ وہ ’’نظام صلوۃ‘‘ کیلئے چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ سے رابطے کریں گے۔ تفصیلات کے مطابق حکومتی فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے سردار محمد یوسف نے کہا کہ تمام صوبے ڈسٹرکٹ لیول پر نمازوں کے اوقات کار کیلئے ایک فہرست تیار کریں گے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ مئی 2015ء میں وفاقی دارالحکومت میں ایک ہی وقت پر اذان اور نماز کا نظام متعارف کرایا گیا تھا تاہم اس پر عملدرآمد تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نے زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اسلام آباد میں ایک ہی وقت پر اذان اور نماز کے اوقات کار طے کرنے سے پہلے اہلحدیث، حنفی (دیو بندی اور بریلوی) اور اہل تشیع فرقوں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اتحاد کے فروغ کیلئے ملک بھر میں ’’نظام صلوۃ‘‘ کے نفاذ کیلئے بھی یہی طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’’نظام صلوۃ‘‘ پر عملدرآمد کی ذمہ داری صوبائی انتظامیہ کی ہوگی اور ان کی وزارت کو اس سلسلے میں تمام صوبوں کی جانب سے ابھی تک انتہائی مثبت ردعمل ملا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں تقریباً 80 فیصد مساجد نظام صلوۃ پر عملدرآمد کر رہی ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ ملک کے دیگر بڑے شہروں میں بھی ایسا ہی ہو۔ انہوں نے اس نئے نظام کے نفاذ سے متعلق کوئی وقت دینے سے تو گریز کیا البتہ اسے حکومت کی ترجیح ضرور قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک بھر میں ایک ہی وقت پر جمعہ کے اجتماع کے انعقاد سے متعلق فیصلہ بعد میں لیا جائے گا۔ دوسری جانب وزارت مذہبی امور کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت دعوؤں کے برعکس اسلام آباد میں نظام صلوۃ پر عملدرآمد کرانے میں ناکام ہو گئی ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں تقریباً 700 مساجد ہیں جن میں سے چند کی انتظامیہ ہی نئے نظام پر عملدرآمد کر رہی ہیں۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں