جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کے خلاف کریک ڈاون کا فیصلہ
  • 0
  • 0

http://tuition.com.pk
crackdown news

پاکستان میں وفاقی حکومت نے جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کے خلاف کریک ڈاون کا فیصلہ کرتے ہوئے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف اائی اے) کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔

وزیرمملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے کہا ہے کہ جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کےخلاف کریک ڈاؤن ہوگا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ ایف آئی اے کے ڈائریکٹر کو معاملہ کے متعلق احکامات جاری کر دیے ہیں۔معاملہ پر حالیہ اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے کا ادارہ جھوٹی خبروں سے متعلق کیسز کی چھان بین کر رہا ہے۔ تحقیقات کے بعد نام سامنے آ جائیں گے جس سے علم ہو گا کہ کون کون اس معاملہ میں ملوث ہے۔قبل ازیں پیر کے روز وفاقی وزیر اطلاعات بھی جعلی مواد کے متعلق تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ فواد چودھری نے اپنے ٹویٹ میں کہا تھا کہ جعلی نوٹیفکیشن اور خبریں منظم طریقے سے سوشل میڈیا پر پھیلائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سلسلہ ایک عشائیہ سے شروع ہوا اور اب غلاظت کا پھیلاؤ ایک سلسلہ بن چکا ہے۔وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا میں شہریوں کی آزادی کو متاثر کیے بغیر ہمیں جعلی خبروں کے اس سلسلہ کو روکنا ہے۔ گزشتہ دنوں ایک نوٹیفکیشن سوشل میڈیا پر زیرگردش رہا جس میں کہا گیا تھا کہ ملائکہ بخاری نامی خاتون کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا چئیر پرسن مقرر کر دیا گیا ہے۔ ملائکہ بخاری کو وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز زلفی بخاری کی بہن ظاہر کیا گیا تھا۔ متعدد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اس نوٹیفیکیشن کو شیئر کر کے حکومت پر تنقید کی جاتی رہی کہ وہ اپنوں کو نوازے میں مصروف ہے۔ملائکہ بخاری نے ٹویٹ کرکے اس بات کی تردید کی کہ انہیں نہ ہی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا چئیرپرسن بنایا گیا ہے اور نہ ہی وہ زلفی بخاری کی رشتہ دار ہیں۔پاکستان دنیا کے ان ملکوں میں شامل کیا جاتا ہے جہاں انفارمیشن ٹیکنالوجی تیزی سے فروغ پانے کے بعد روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔ 15 کروڑ 10 لاکھ موبائل فون صارفین کے ساتھ پاکستان میں ٹیلی ڈینسیٹی کی شرح تقریبا 73 فیصد ہے۔ پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی کے مطابق ملک میں چھ کروڑ دس لاکھ افراد براڈ بینڈ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں جب کہ تھری جی اور فور جی انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد پانچ کروڑ 90 لاکھ ہے۔انٹرنیٹ خصوصا سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر جعلی خبروں اور مشکوک مواد کا پھیلاؤ ایک عالمی مسئلہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک بشمول امریکہ اور دیگر ترقی یافتہ ملک اس مسئلہ کا شکار ہیں۔فیس بک اور دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارم بھی اس مسئلہ سے نمنٹنے کے لیے اپنے سیکیورٹی فیچرز بہتر بنارہے ہیں۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کی جانب سے جعلی مواد پر روک تھام کے لیے متعدد اکاؤنٹس کو ختم بھی کیا گیا ہے۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں