صارفین پر بجلی گرانے کا فیصلہ، 100 ارب وصول کئے جائیں گے
  • 0
  • 0

http://tuition.com.pk
consumers decision

حکومت نے بجلی اور ایل پی جی کی قیمتیں بڑھا نے کا فیصلہ کرتے ہوئے بجلی صارفین سے 100 ارب روپے وصول کرنے کی تیاری کرلی، جبکہ پٹرولیم ڈویژن نے ایل پی جی صارفین پربھی 4669روپے فی میٹرک ٹن پٹرولیم لیوی عائد کردی جس کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ، نفاذ یکم نومبر سے ہوگا، پاور ڈویژن نے ٹیرف کے تعین اور نوٹیفکیشن سال 2015-16 کیلئے مستقل ڈیفالٹرز ، ترسیلی وتقسیم کارنقصانات کی مد میں 35 ارب روپے جبکہ خالص پن بجلی منافع کی مد میں 65 ارب روپے کی سمری وفاقی کابینہ کا ارسال کر دی، وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد بجلی صارفین سے 100 ارب روپے وصول کرنے کیلئے بجلی کے نرخوں میں 48پیسے فی یونٹ اضافہ کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ نیپرا نے صارفین کے لئے بجلی کے نرخ میں مالی سال 2016-17 کیلئے 1.53 روپے فی یونٹ اضافے کی سفارش بھی پاور ڈویژن کو بھیجی ہوئی ہے ، جس کا نوٹیفکیشن ابھی تک جاری نہیں کیا گیا، پاور ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے بعد 124 ارب بھی بجلی صارفین سے وصول کیے جائیں گے۔ اسی طرح اوگرا نے سوئی ناردرن کے گیس صارفین کیلئے قیمتوں میں60.25روپے فی یونٹ جبکہ سوئی سدرن کے صارفین کیلئے 96.34روپے فی یونٹ بڑھانے کی سفارش کی ہے۔روزنامہ دنیا کو موصول سرکاری دستاویز ات کے مطابق وفاقی حکومت کی طرف سے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کیلئے پاور ڈویژن کی سمری وفاقی کابینہ کو ارسال کردی گئی ہے ، جس میں بجلی کے ترسیلی وتقسیم کار نقصانات کی مد میں 10ارب روپے جبکہ مستقل ڈیفالٹرز کی مد میں 25ارب روپے کے ساتھ ساتھ 65ارب روپے خالص پن بجلی کے منافع کی مد میں بجلی صارفین سے وصولی کی منظوری دی جائے گی۔ اس کے علاوہ پٹرولیم ڈویڑن نے پاکستان میں پیدا ہونے والی ایل پی جی یا نکالی جانے والی ایل پی جی پر 4669 روپے فی میٹرک ٹن کی شرح سے پٹرولیم لیوی عائدکردی ہے۔ نیپرا کی طرف سے سفارش کردہ بجلی کے نرخ مالی سال 2015-16کیلئے میں 48 پیسے کی سفارش کی تھی اور اس کا بھی پاور ڈویژن نے نوٹیفکیشن جاری کیا نہیں ہے۔نیپرا کی سفارش کی روشنی میں پاور ڈویژن نے وفاقی کابینہ کو ٹیرف تعین اور نوٹیفکیشن سال 2015-16 سمری بھجوادی ہے ، جس میں ٹی اینڈ ڈی نقصانات کی مد میں 14پیسے جبکہ مستقل ڈیفالٹرز کی مد میں 34 پیسے اضافے کی سفارش کی گئی تھی۔ بجلی صارفین ٹی اینڈ ڈی نقصانات کی مدمیں 10ارب روپے جبکہ مستقل ڈیفالٹرز کی مدمیں 25ارب روپے وصول کرنے کی سفارش کی گئی ہے ، خالص پن بجلی منافع کے واجبات کے 65 ارب روپے عوام سے وصول کئے جائیں گے ، خیبرپختونخوا کو مالی سال2015-16مالی سال2016-17اور رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ کے واجبات کی مد میں 32 ارب اور پنجاب کو 33 ارب سے زائد ادا کئے جائینگے۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں