ایس ایچ او کا غریدہ فارقی کے گھر آنا جانا، کیا انصاف دے گا، متاثرہ بچی
child sho gharida farooqi

غریدہ فاروقی کے ظلم کا شکار خاندان بدستور خوف میں مبتلائ، متاثرہ بچ نے تھانے میں ہی اپنی والدہ کو کہہ دیا تھا کہ ایس ایچ او سندر سید سبطین شاہ کا غریدہ فاروقی کے گھر آنا جانا ہے ،وہ غریدہ فاروقی کو میڈم میڈم کرتے رہتے ہیں، میں خود انہیں چائے بنا کر دیتی تھی ، یہ ہمیں انصاف نہیں دلائیں گے۔

 تھانے میں اندراج مقدمہ کی درخواست دی تو ایس ایچ او سندر اور دیگر اہلکاروں نے ڈائری نمبر دینے سے انکار کردیاتھا،غریدہ فاروقی نے بہن کے آپریشن کا رونا روکر70ہزار کی بجائے 45ہزار روپے دیے جبکہ سٹامپ پیپر پر 57ہزار لکھ کر مجھ سے دستخط کرانے کی کوشش کی جس پر میں نے 57ہزار کاٹ کر 45ہزار لکھ کر دستخط کیئے ، ہم غریب لوگ ہیں اس بااثر خاتون کا مقابلہ نہیں کرسکتے لہذا کسی قسم کی کوئی کاروائی نہیں کرنا چاہتے۔بتایا گیا ہے کہ غریدہ فاروقی کے ظلم کا نشانہ بننے والا غریب خاندان میڈیا کو بھی حقائق بتانے سے خائف ہوگیا۔بچی کے والدظفر اقبال نے بتایاکہ ہم ان پڑھ لوگ ہیں کسی کے خلاف درخواست وغیرہ نہیں لکھ سکتے، میری بیوی نے تھانے میں جو درخواست دی تھی وہ بھی اسے کسی اور نے لکھ کر دی تھی جس کے متعلق اسے بعد میں معلوم ہوا کہ اس میں میری بچی پر ہونے والے تشدد کا ذکر بھی نہیں ہے۔بچی کے والد کا مزید کہنا تھا کہ جب میری بیٹی اپنی والدہ کے ساتھ اندراج مقدمہ کی درخواست لیکر تھانہ سندرپہنچی تو میری بیٹی آمنہ نے ایس ایچ او سندر سید سبطین شاہ کو دیکھتے ہی اپنی ماں کو کہہ دیا کہ امی چلو گھر چلیں یہ تو وہی انکل ہیں جو غریدہ باجی کے گھر آتے جاتے رہتے ہیں اور میں ہی ان کو چائے وغیرہ بنا کر دیتی تھی۔ ان کو اگر ہم غریدہ فاروقی کے خلاف کوئی درخواست دیں گے تو یہ ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کریں گے کیونکہ یہ جب غریدہ باجی کے پاس آتے ہیں تو ان کے سامنے جی جی کر رہے ہوتے ہیں ہمیں یہاں سے کوئی انصاف نہیں ملنا۔متاثرہ بچی کی والدہ کا کہنا تھا کہ میں نے پھر بھی حصول انصاف کی کوشش کی اور غریدہ فاروقی کے خلاف موقع پر موجود محرر جاوید کو درخواست دی تو اس نے درخواست رکھ لی جس پر میں نے جب ڈائری نمبر مانگا تو انھوں نے کہا کہ آپ جائیں آپ کی درخوست وصول ہو گئی ہے جس پر میں نے جب واویلہ مچایا تو میڈیا کو بھی واقعے کا علم ہو گیا اور میڈیا کی گاڑیاں اور عملہ تھانے کے باہر جمع ہو گئے جن کو دیکھ کر سید سبطین شاہ نے ہمیں ہماری گزشتہ تنخواہی غریدہ فاروقی سے دلوانے کا وعدہ کیااور غریدہ فاروقی کو تھانے بلوا کر پیسے دینے کا کہاجس پر غریدہ فاروقی نے یہ کہہ کر 10منٹ کا ٹائم مانگا کہ میں اے ٹی ایم سے پیسے نکلوا کر لاتی ہوں تاہم جب وہ واپس آئیں تو انھوں نے مجھے 70ہزار روپے کی بجائے 45ہزار روپے دیتے ہوئے کہا کہ میری بہن کا آپریشن ہوا ہے میرے تمام پیسے اسکے آپریشن پر لگ گئے ہیں جبکہ ایس ایچ او سید سبطین شاہ بھی کہنے لگا کہ واقعی اسکے پاس 70ہزار روپے نہیں ہیں 45ہزار روپے ہیں تم وہی رکھ لو جس پر میں نے اسے باقی پیسے معاف کرتے ہوئے 45ہزار روپے رکھ لئے۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں