عمران خان اور جہانگیر ترین کیس
chief justice saqib nisar jahangir tareen imran khan

چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار نے کہا کہ انتخابی گوشواروں میں انسائیڈر ٹریڈنگ کا ڈیکلریشن نہیں دینا ہوتا، جب غلط ڈیکلریشن نہیں دیا تو نااہلی کیسے ہوسکتی ہی قانو ن کی ہر خلاف ورزی جرم نہیں ہوتی، کاروباری لین دین میں قانون کی خلاف ورزی پر نااہل کیسے کردیں قانون کی خلاف ورزی کے کئی سال بعد کسی کے بے ایمان کیسے کہیں،مان لیتے ہیں کہ قانون کی خلاف ورزی ہوگی

 لیکن بے ایمانی کیسے ہوئی دستاویزات متنازعہ ہوں تو عدالت کو کیا کرنا چاہیی ججز بھی قانون کے تابع ہوتے ہیں،کبھی اپنے اختیارات کی بات نہیں کی، کسی کے الیکشن پر اعتراض ہوتو ٹریبونل سے رابطہ کیا جاتا ہے، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ درخواست گزار نے تمام اثاثوں کا نقطہ پہلے نہیں اٹھایا ، جہانگیر ترین نے ایس ای سی پی کو جرمانہ کب ادا کیا، جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ انتخابی قوانین میں انسائیڈر ٹریڈنگ کا ذکر نہیں ہے۔منگل کو جہانگیر ترین کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جہانگیر ترین نے اپنی ٹرسٹ کے حوالے سے دستاویزات عدالت میں جمع کرادیں، عدالت نے جہانگیر ترین کی دستاویزات کا جائزہ لیا، چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ کیس چل رہاہے، سوال اٹھے تو نئی دستاویزات آئیں، ججز قانون کے تابع ہے ، اپنے اختیارات کی کبھی بات نہیں، حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے کہا جو دستاویزات آئیں وہ متنازعہ ہیں، چیف جسٹس نے سوال کیا کہ دستاویزات متنازعہ ہوں توعدالت کو کیا کرنا چاہیی وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ نئی دستاویزات میں یورو اکائونٹ دکھایا گیا، عمران خان نے کاغذات میں اہلیہ کے اثاثے ظاہر نہیں کیے،بنی گالہ کے علاوہ کسی اثاثے کا ذکر نہیں، ہمارا مقدمہ بھی اثاثوں کو چھپانے کا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ جمائما کا تعلق بہت امیر خاندان سے ہے، جمائما کے اثاثے پوری دنیا میں ہوسکتے ہیں، آپ نے یہ اعتراض کبھی نہیں اٹھایا ، جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ آپ نے تمام اثاثوں کا نقطہ پہلے نہیں اٹھایا، چیف جسٹس نے کہا عدالت کی کتنی خوش قسمتی ہے، نعیم بخاری بھی موجود ہیں۔منگل کو جہانگیر ترین کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جہانگیر ترین نے اپنی ٹرسٹ کے حوالے سے دستاویزات عدالت میں جمع کرادیں، عدالت نے جہانگیر ترین کی دستاویزات کا جائزہ لیا، چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ کیس چل رہاہے، سوال اٹھے تو نئی دستاویزات آئیں، ججز قانون کے تابع ہے ، اپنے اختیارات کی کبھی بات نہیں، حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے کہا جو دستاویزات آئیں وہ متنازعہ ہیں، چیف جسٹس نے سوال کیا کہ دستاویزات متنازعہ ہوں توعدالت کو کیا کرنا چاہیی وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ نئی دستاویزات میں یورو اکائونٹ دکھایا گیا، عمران خان نے کاغذات میں اہلیہ کے اثاثے ظاہر نہیں کیے،بنی گالہ کے علاوہ کسی اثاثے کا ذکر نہیں، ہمارا مقدمہ بھی اثاثوں کو چھپانے کا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ جمائما کا تعلق بہت امیر خاندان سے ہے، جمائما کے اثاثے پوری دنیا میں ہوسکتے ہیں، آپ نے یہ اعتراض کبھی نہیں اٹھایا ، جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ آپ نے تمام اثاثوں کا نقطہ پہلے نہیں اٹھایا، چیف جسٹس نے کہا عدالت کی کتنی خوش قسمتی ہے، نعیم بخاری بھی موجود ہیں۔کسی نے ٹیکس کم دیا تو کیا نتائج ہوں گی زرعی ٹیکس حکام نے جہانگیر ترین کو نوٹس دیا،وکیل عاضرنفیس نے کہا کہ آرٹیکل 62 کے تحت نااہلی تاحیات ہوسکتی ہے، جہانگیر ترین نے لیز پر زرعی آمدن پر ٹیکس نہیں دیا، کسی کی مزید سماعت آج تک کیلئے ملتوی کردی گئی۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں